کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا پر سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے خرچ کرنے کا بیان
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثني موسى بن محمد بن إبراهيم التيمي، عن أبيه قال: كان أبو بكر يُنفِقُ على مارية حتى تُوفِّي، ثم صار عمرُ يُنفِقُ عليها حتى توفيت في خلافته (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی وفات تک سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کے اخراجات برداشت کرتے رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے اخراجات اٹھاتے رہے یہاں تک کہ ان کی خلافت ہی میں سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی۔
قال ابن عمر: وتُوفِّيَت مارية أمُّ إبراهيم ابن رسول الله ﷺ في المحرم سنةَ ستَّ عشرة من الهجرة، فرُئي عمرُ يُحضِرُ الناسَ لشهودها، فصلى عليها عمر، وقَبَرَها بالبقيع.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا کی وفات محرم سنہ 16 ہجری میں ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ان کے جنازے کے لیے جمع کرتے ہوئے دیکھے گئے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔
سمعت أبا العبّاس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العبّاس بن محمد الدُّوري، يقول: سمعتُ يحيى بن معين يذكر حديث ثابت عن أنس: أنَّ أم إبراهيم كانت تتهم برجل، فأمر النَّبيّ ﷺ بِضَرْبِ عُنقه، فنظروا فإذا هو مجبوبٌ. قلت ليحيى: مَن حدَّثك؟ قال: عفَّانُ، عن حماد بن سَلَمة (1).
حافظ طلحہ بابر
عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے یحییٰ بن معین کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ذکر کرتے سنا کہ ابراہیم کی والدہ پر ایک شخص کے حوالے سے الزام لگایا گیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، مگر جب دیکھا گیا تو وہ مردانہ صلاحیت سے محروم (مجبوب) تھا۔
حدثناه علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا الحسين بن الفضل البَجَلي ومحمد بن غالب الضبي وهشام بن علي السَّدوسي، قالوا: حدثنا عفان، حدثنا حماد بن سلمة، حدثنا ثابت، عن أنس: أنَّ رجلًا كان يُتّهم بأم إبراهيمَ ولدِ رسول الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ لعل: "اذهَبْ فاضرِبْ عُنقه" فأتاه عليٌّ فإذا هو في رَكِيٍّ يتبرَّدُ فيها، فقال له علي: اخرُجْ، فناوله يدَه، فأخرجه فإذا هو مجبوبٌ ليس له ذَكَرٌ، فكفّ عليٌّ عنه، ثم أتى النَّبيّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنه لمجبوبٌ ما له ذكرٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6824 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6824 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص پر رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم کی والدہ (سیدہ ماریہ رضی اللہ عنہا ) کے حوالے سے تہمت لگائی گئی، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس پہنچے تو وہ ایک کنویں میں ٹھنڈک حاصل کر رہا تھا، علی رضی اللہ عنہ نے اسے فرمایا: باہر نکلو، اس نے اپنا ہاتھ پکڑایا تو علی رضی اللہ عنہ نے اسے باہر نکالا، دیکھا تو وہ مجبوب تھا اور اس کا مردانہ عضو ہی نہ تھا، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ اس کے قتل سے رک گئے اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! وہ تو مجبوب ہے، اس کا عضو تناسل ہی نہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔