المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
مَقُولَةُ النَّبِيِّ عِنْدَ مَوْتِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے بیٹے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی وفات پر ارشاد
حدیث نمبر: 6997
أخبرنا أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران، حدثنا أبي، حدثنا محمد بن مُصفَّى، حدثنا بقيَّة، عن محمد بن زياد، عن أبي أمامة: أنَّ رسول الله ﷺ مَشَى خلف جنازة ابنه إبراهيم حافيًا (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6826 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صاحبزادے ابراہیم کے جنازے کے پیچھے ننگے پاؤں چلے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف بمرّةٍ، بقية - وهو ابن الوليد - ليس بذاك القوي، وهو أيضًا مدلس، وقد عنعنه. محمد بن زياد هو الألهاني. ولم نقف عليه عند غير المصنف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "سراسر ضعیف" (ضعیف بمرۃ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: بقیہ (بن ولید) کوئی قوی راوی نہیں ہیں، نیز وہ "مدلس" بھی ہیں اور یہاں انہوں نے "عن" سے روایت کی ہے (سماع کی تصریح نہیں)۔ محمد بن زیاد سے مراد "الالہانی" ہے، اور ہم مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس پر مطلع نہیں ہو سکے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "سراسر ضعیف" (ضعیف بمرۃ) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: بقیہ (بن ولید) کوئی قوی راوی نہیں ہیں، نیز وہ "مدلس" بھی ہیں اور یہاں انہوں نے "عن" سے روایت کی ہے (سماع کی تصریح نہیں)۔ محمد بن زیاد سے مراد "الالہانی" ہے، اور ہم مصنف (حاکم) کے علاوہ کسی اور کے ہاں اس پر مطلع نہیں ہو سکے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6997 سے ماخوذ ہے۔