حدیث نمبر: 6994
سمعت أبا العبّاس محمد بن يعقوب يقول: سمعتُ العبّاس بن محمد الدُّوري، يقول: سمعتُ يحيى بن معين يذكر حديث ثابت عن أنس: أنَّ أم إبراهيم كانت تتهم برجل، فأمر النَّبيّ ﷺ بِضَرْبِ عُنقه، فنظروا فإذا هو مجبوبٌ. قلت ليحيى: مَن حدَّثك؟ قال: عفَّانُ، عن حماد بن سَلَمة (1).
حافظ طلحہ بابر

عباس بن محمد دوری بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے یحییٰ بن معین کو سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا ذکر کرتے سنا کہ ابراہیم کی والدہ پر ایک شخص کے حوالے سے الزام لگایا گیا تھا تو نبی کریم ﷺ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا، مگر جب دیکھا گیا تو وہ مردانہ صلاحیت سے محروم (مجبوب) تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6994
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6994] [ترقيم الشركة 6915]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 21/ (13989)، ومسلم (2771) من طريق عفان بن مسلم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (21/ 13989) اور مسلم (2771) نے عفان بن مسلم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
واستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
فنی نکتہ / علّت: حاکم کا اسے (مستدرک میں) لانا ان کا "ذہول" (بھول/غفلت) ہے (کیونکہ یہ تو صحیح مسلم میں موجود ہے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6994 سے ماخوذ ہے۔