کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور طلاق کا ذکر
حدثنا بشرح هذه القصة أبو عبد الله الأصبهاني (2)، حدثنا الحسن بن الجَهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر، حدثنا محمد بن يعقوب بن عتبة، عن عبد الواحد بن أبي عون الدَّوْسي قال: قَدِمَ النُّعمان بن أبي الجَون الكندي وكان ينزل وبنو أبيه نجدًا ممّا يلي الشَّرَبَّة (3)، فَقَدِمَ على رسول الله ﷺ مُسلِمًا، فقال: يا رسول الله، ألا أزوِّجُك أجمل أيمٍ في العرب؟ كانت تحتَ ابن عَمٍّ لها فتُوفي عنها فتأيَّمت، وقد رَغِبَت فيك وحطَّت إليك (4)، فتزوجها رسول الله ﷺ على اثنتي عشرة أُوقيةً ونَشٍّ، فقال: يا رسول الله، لا تُقصِّرْ بها في المهر، فقال رسول الله ﷺ: "ما أصدَقتُ أحدًا من نسائي فوق هذا، ولا أُصدِقُ أحدًا من بناتي فوق هذا، فقال النُّعمان: ففيك الأسى، فقال: فابعث يا رسولَ الله إلى أهلك من يَحمِلُهم إليك، فإني خارج مع رسولك فمرسل أهلك معه. فبعث رسول الله ﷺ معه أبا أسيد الساعدي فلما قَدِمَا عليها جلست في بيتها، وأذنت له أن يدخُلَ، فقال أبو أسيد: إنَّ نساءَ رسول الله ﷺ لا يراهنَّ الرجال، قال أبو أسيد - وذلك بعد أن نزلَ الحِجاب، فأرسلت إليه: فتستَّري لا تُري (5)، قال: حِجابٌ بينك وبين من تكلِّمين (6) من الرجال إِلَّا ذا مَحْرَم منكِ، فَفَعَلَت، فقال أبو أسيد: فأقمتُ ثلاثة أيام، ثم تحملتُ مع الظَّعينة على جَمَل في مِحَفَّة، فأقبلتُ بها حتى قدمت المدينة، فأنزلتها في بني ساعدة، فدخل عليها نساء الحي فرحَّبْنَ (1) بها وسهَّلَنَ، وخرَجْنَ من عندها فذكَرْنَ جمالها، وشاع ذلك بالمدينة، وتحدثوا بقدومها. قال أبو أُسيد الساعدي: ورجعت إلى النَّبيّ ﷺ وهو في بني عمرو بن عوف، فأخبرته، ودخل عليها داخل من النساء لما بلغهنَّ من جمالها، وكانت من أجمل النِّساء، فقالت (2): إِنَّكِ من الملوك، فإن كنتِ تُريدين أن تَحظَيْ عند رسول الله ﷺ فاستعيذي منه، فإنك تحظين عندَه ويَرغَبُ فيك (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6816 - سنده واه
حافظ طلحہ بابر
عبدالواحد بن ابی عون دوسی سے مروی ہے، انہوں نے کہا: نعمان بن ابی الجون کندی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اور اس کے خاندان کے لوگ نجد کے اس علاقے میں رہتے تھے جو شربہ سے متصل ہے، اس نے اسلام قبول کیا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا میں آپ کا نکاح عرب کی ایک نہایت خوبصورت بیوہ خاتون سے نہ کر دوں؟ وہ اپنے چچازاد کے نکاح میں تھی جو وفات پا گیا، اب وہ بیوہ ہے اور آپ کے نکاح میں آنے کی بے حد خواہش رکھتی ہے“، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے بارہ اوقیہ اور ایک «نَشٌّ» (آدھا اوقیہ) مہر پر نکاح کر لیا۔ اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اس کا مہر کم نہ رکھیں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنی ازواج میں سے کسی کا مہر اس سے زیادہ نہیں رکھا اور نہ ہی اپنی بیٹیوں میں سے کسی کا مہر اس سے زیادہ مقرر کیا ہے“، نعمان نے کہا: ”آپ کی اتباع ہی میں تسلی ہے“، پھر اس نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اپنے کسی قاصد کو بھیج دیں جو اسے آپ کے پاس لے آئے، میں آپ کے قاصد کے ساتھ جا رہا ہوں اور آپ کے گھر والوں کو اس کے ہمراہ روانہ کر دوں گا“۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے ساتھ سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو بھیجا، جب وہ دونوں وہاں پہنچے تو وہ خاتون اپنے گھر میں تھی اور اس نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی، سیدنا ابو اسید نے کہا: ”رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو غیر مرد نہیں دیکھتے“، اور یہ حکم پردے (حجاب) کے احکامات نازل ہونے کے بعد کا تھا، اس خاتون نے کہلا بھیجا کہ (پھر میں کیا کروں؟) تو انہوں نے کہا: ”تم پردہ کر لو، تمہارے اور ان مردوں کے درمیان جن سے تم گفتگو کرو گی ایک حجاب ہونا چاہیے سوائے ان کے جو تمہارے محرم ہوں“، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ ابو اسید کہتے ہیں کہ میں وہاں تین دن ٹھہرا، پھر اسے اونٹ پر موجود ایک پالکی میں بٹھا کر مدینہ لے آیا اور اسے بنو ساعدہ کے ہاں ٹھہرایا، محلے کی عورتیں اس کے پاس آئیں، اسے خوش آمدید کہا اور مبارکباد دی، جب وہ وہاں سے نکلیں تو اس کے حسن و جمال کا ذکر کرنے لگیں، یہ بات مدینہ میں پھیل گئی اور اس کی آمد کے چرچے ہونے لگے۔ سیدنا ابو اسید ساعدی کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس واپس آیا، آپ ﷺ اس وقت بنو عمرو بن عوف کے پاس تھے، میں نے انہیں اطلاع دی، پھر جب عورتوں کو اس کے حسن کا پتا چلا تو ایک خاتون (حسد یا سازش کے طور پر) اس کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”تم تو شاہی خاندان سے ہو، اگر تم چاہتی ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے ہاں تمہارا مقام بلند ہو جائے تو جب وہ تمہارے قریب آئیں تو تم ان سے اللہ کی پناہ مانگنا، اس طرح تمہاری قدر و منزلت ان کے ہاں بڑھ جائے گی اور وہ تمہیں زیادہ رغبت سے دیکھیں گے“۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6983
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف محمد بن يعقوب بن عتبة فيه جهالة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف محمد بن يعقوب بن عتبة فيه جهالة، والخبر معضل.» [ترقيم الرساله 6983] [ترقيم الشركة 6904] [ترقيم العلميه 6816]
قال ابن عمر: فحدثني عبد الله بن جعفر، عن ابن أبي عون قال: تزوّج النَّبيُّ ﷺ الكندية في شهر ربيع الأول سنة تسع من الهجرة (4).
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی عون سے مروی ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ نے ربیع الاول سنہ 9 ہجری میں قبیلہ کِندہ کی خاتون سے نکاح فرمایا تھا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6984
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6984] [ترقيم الشركة 6905]
قال: وحدثني عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه: أنَّ الوليد بن عبد الملك كتب إليه يسأله: هل تزوّج رسول الله ﷺ أختَ الأشعث بن قيس؟ فقال: ما تزوجها رسول الله ﷺ قَطُّ، ولا تزوّج كنديةٌ إلَّا أختَ بني الجَوْن، فمَلَكَها، فلما أتي بها وقَدِمَتِ المدينة نظر إليها فطلقها، ولم يبن بها (5).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک نے انہیں خط لکھ کر دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے اشعث بن قیس کی بہن سے نکاح کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ نے ان سے کبھی نکاح نہیں فرمایا، اور آپ ﷺ نے کسی کندی عورت سے نکاح نہیں کیا سوائے بنو الجون کی اس بہن کے، آپ ﷺ اس کے مالک ہوئے (یعنی نکاح کیا)، لیکن جب وہ لائی گئی اور مدینہ پہنچی تو آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر طلاق دے دی اور اس کے ساتھ خلوت نہیں فرمائی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6984M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6984M] [ترقيم الشركة 6905/1]
قال: وذكر هشام بن محمد: أنَّ ابنَ الغَسِيل حدثه عن حمزة بن أبي أسيد الساعدي، عن أبيه، وكان بدريًا قال: تزوّج رسول الله ﷺ أسماء بنت النعمان الجونيّة، فأرسلني فجئتُ بها، فقالت حفصة لعائشة: اخضبيها أنتِ، وأنا أمشُطُها، ففعلتا، ثم قالت لها إحداهما: إن النَّبيّ ﷺ يعجبه من المرأة إذا دخلت عليه أن تقول: أعوذُ بالله منك، فلما دخلت عليه أغلق الباب وأرخى السِّترَ مدَّ يده إليها، فقالت: أعوذُ بالله منك، فقال رسول الله ﷺ بكُمِّه على وجهه، فاستَتَرَ به، وقال: "عُذتِ مَعَاذًا" ثلاث مرات. قال أبو أسيد: ثم خرج عليَّ فقال: "يا أبا أسيد، ألحقها بأهلها، ومتِّعها برازِقِيَّين" يعني كِرباسين، فكانت تقول: ادعُونِي الشَّقيَّة (1). قال ابن عمر قال هشام بن محمد: فحدثني زهير بن معاوية الجعفي: أنها ماتت كَمَدًا.
حافظ طلحہ بابر
حمزہ بن ابی اسید ساعدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ بدری صحابی تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے اسماء بنت نعمان جونیہ سے نکاح کیا، آپ ﷺ نے مجھے بھیجا تو میں اسے لے آیا، سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما سے کہا: ”اسے تم مہندی لگاؤ اور میں اسے کنگھی کرتی ہوں“، انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر ان میں سے ایک نے اس سے کہا: ”نبی کریم ﷺ کو عورتوں کی یہ بات پسند ہے کہ جب وہ ان کے پاس داخل ہوں تو کہیں: میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“، چنانچہ جب آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے، دروازہ بند کر دیا اور پردہ گرا دیا، پھر جب آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا تو اس نے کہا: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنی آستین اپنے چہرے پر رکھ کر خود کو ڈھانپ لیا اور تین مرتبہ فرمایا: «عُذْتِ مَعَاذًا» ”تو نے ایک بہت بڑی پناہ گاہ کی پناہ مانگی ہے“۔ ابو اسید کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور مجھ سے فرمایا: ”اے ابو اسید! اسے اس کے گھر والوں کے پاس پہنچا دو اور اسے دو کتان کے کپڑے دے دو“، وہ خاتون اس کے بعد کہا کرتی تھی: ”مجھے شقیہ (بدقسمت) کہہ کر پکارا کرو“۔ ہشام بن محمد کہتے ہیں کہ زہیر بن معاویہ جعفی نے بتایا کہ وہ اسی غم کی وجہ سے وفات پا گئیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6985
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف واه كما قال الذهبي في "تلخيصه"
تخریج حدیث «إسناده ضعيف واه كما قال الذهبي في "تلخيصه"، هشام بن محمد» [ترقيم الرساله 6985] [ترقيم الشركة 6906]
قال هشام: وحدثني أبي، عن أبي صالح عن ابن عباس قال: خَلَفَ على أسماء بنت النعمان المهاجرُ بن أبي أميَّة، فأراد عمرُ أن يُعاقبها، فقالت: والله ما ضُرِبَ عليَّ الحِجابُ، ولا سُمِّيتُ بأمِّ المؤمنين، فكفَّ عنها (2). ذكر قتيلة بنت قيس أختِ الأشعث بن قيس
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مہاجر بن ابی امیہ نے (بعد میں) اسماء بنت نعمان سے نکاح کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سزا دینا چاہی، مگر اسماء نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھ پر پردے (حجاب) کا حکم نافذ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی مجھے ام المؤمنین کا نام دیا گیا تھا“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے باز رہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6986
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، هشام بن محمد» [ترقيم الرساله 6986] [ترقيم الشركة 6907]