حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطَّة، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر (1) قال: والكلابية قد اختلف في اسمِها، فقال بعضُهم: هي فاطمة بنت الضحاك بن سفيان الكلابي. وقال بعضهم: هي عَمْرة بنت زيد بن عبيد بن رُوَاس بن كلاب بن عامر. وقال بعضُهم: هي عالية بنت ظَبْيان بن عمرو بن عوف بن كعب بن عبيد بن كلاب (2). وقال بعضُهم: هي سَبَا (3) بنتُ سفيان بن عوف بن كعب بن عبيد بن أبي بكر بن كلاب. فقال بعضهم: ولم تكن إلَّا كِلابيةٌ واحدة، وإنما اختلف في اسمها، وقال بعضهم: بل كُنّ جميعًا، ولكن لكل واحدةٍ منهن قصة غير قصة (4) صاحبتها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6812 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6812 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ کلابیہ خاتون کے نام میں اختلاف ہے، بعض نے کہا: وہ فاطمہ بنت ضحاک بن سفیان کلابی تھیں، بعض نے کہا: وہ عمرہ بنت زید بن عبید بن رواس بن کلاب تھیں، بعض کے مطابق وہ عالیہ بنت ظبیان بن عمرو بن عوف تھیں، جبکہ بعض نے انہیں سبا بنت سفیان بن عوف کہا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ وہ ایک ہی کلابیہ خاتون تھیں جن کے نام میں اختلاف ہوا ہے، جبکہ بعض کا قول ہے کہ یہ سب الگ الگ خواتین تھیں اور ہر ایک کا واقعہ دوسرے سے مختلف تھا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي [حدثنا محمد بن سعد العَوْفي] (5) حدثنا يعقوب بن إبراهيم بن سعد (ح). وأخبرنا أحمد بن جعفر الزاهد، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثنا أبي، حدثنا يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن مسلم ابن أخي ابن شهاب، عن عمه، عن عُزوة، عن عائشة قالت: تزوّج رسول الله ﷺ الكلابية، فلما دخلت عليه ودنا منها، قالت: إنِّي أعوذُ بالله منك، فقال رسول الله ﷺ (1): "لقد عُذْتِ بعظيم، الحَقِي بأهلك" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6813 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6813 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک کلابیہ خاتون سے نکاح فرمایا، جب آپ ﷺ ان کے پاس داخل ہوئے اور ان کے قریب ہوئے تو اس نے کہا: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم نے ایک بڑی عظمت والی ہستی کی پناہ مانگی ہے، اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغاني، حدثنا محمد بن أسد الحَوْشي، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الأوزاعي، قال: سألتُ الزُّهْري: أيُّ أزواج النَّبيّ ﷺ استعاذَتْ منه؟ [فقال: حدثني عُرْوة، عن عائشة: أن ابنة الجَوْن الكِلابيّة لما أدخلت على النَّبيّ ﷺ قالت: أعوذُ بالله منك، قال: "لقد عُذتِ بعظيم، الحَقِي بأهلِكِ] (3) " (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6814 - حذفه الذهبي من التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6814 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب جون کی بیٹی کلابیہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لائی گئیں تو اس نے کہا: ”میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ تم نے بہت بڑی عظمت والی ہستی کی پناہ مانگی ہے، اب اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ۔“
أخبرنا أحمد بن سلمان (5) الفقيه، حدثنا هلال بن العلاء الرقي، حدثنا أبي، حدثنا عبيد (6) الله بن عمرو، عن عبد الله بن محمد بن عقيل، قال: ونكح رسول الله ﷺ امرأة من كندة، وهي الشَّقيَّةُ التي سألت رسول الله ﷺ أن يردها إلى قومِها وأن يُفارقها، ففعل وردها مع رجل من الأنصار يقال له: أبو أسيد الساعدي (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6815 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6815 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن محمد بن عقیل سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ کِندہ کی ایک خاتون سے نکاح کیا، اور یہ وہی ”شقیہ“ (بدقسمت) تھی جس نے رسول اللہ ﷺ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسے اس کے گھر والوں کے پاس واپس بھیج دیں اور اسے جدا کر دیں، چنانچہ آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا اور اسے انصاری صحابی سیدنا ابو اسید ساعدی رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس روانہ کر دیا۔