المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ نِكَاحِ الْكِلَابِيَّةِ وَطَلَاقِهَا باب: سیدہ کلابیہ یا کندیہ رضی اللہ عنہا کے نکاح اور طلاق کا ذکر
حدیث نمبر: 6986
قال هشام: وحدثني أبي، عن أبي صالح عن ابن عباس قال: خَلَفَ على أسماء بنت النعمان المهاجرُ بن أبي أميَّة، فأراد عمرُ أن يُعاقبها، فقالت: والله ما ضُرِبَ عليَّ الحِجابُ، ولا سُمِّيتُ بأمِّ المؤمنين، فكفَّ عنها (2). ذكر قتيلة بنت قيس أختِ الأشعث بن قيس
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مہاجر بن ابی امیہ نے (بعد میں) اسماء بنت نعمان سے نکاح کر لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں سزا دینا چاہی، مگر اسماء نے کہا: ”اللہ کی قسم! مجھ پر پردے (حجاب) کا حکم نافذ نہیں کیا گیا تھا اور نہ ہی مجھے ام المؤمنین کا نام دیا گیا تھا“، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے باز رہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده تالف، هشام بن محمد - وهو الكلبي - متروك، وأبوه متهم، وشيخه أبو صالح - وهو باذام - ضعيف.
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/سخت ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہشام بن محمد (الکلبی) "متروک" ہے، اس کا باپ "متہم" (جس پر جھوٹ کا الزام ہو) ہے، اور اس کا شیخ ابو صالح (باذام) ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 141 عن الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 141) میں واقدی سے روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "تالف" (تباہ شدہ/سخت ضعیف) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ہشام بن محمد (الکلبی) "متروک" ہے، اس کا باپ "متہم" (جس پر جھوٹ کا الزام ہو) ہے، اور اس کا شیخ ابو صالح (باذام) ضعیف ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 141 عن الواقدي، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 141) میں واقدی سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6986 سے ماخوذ ہے۔