حدیث نمبر: 6984M
قال: وحدثني عبد الرحمن بن أبي الزناد، عن هشام بن عروة، عن أبيه: أنَّ الوليد بن عبد الملك كتب إليه يسأله: هل تزوّج رسول الله ﷺ أختَ الأشعث بن قيس؟ فقال: ما تزوجها رسول الله ﷺ قَطُّ، ولا تزوّج كنديةٌ إلَّا أختَ بني الجَوْن، فمَلَكَها، فلما أتي بها وقَدِمَتِ المدينة نظر إليها فطلقها، ولم يبن بها (5).
حافظ طلحہ بابر

ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ولید بن عبدالملک نے انہیں خط لکھ کر دریافت کیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے اشعث بن قیس کی بہن سے نکاح کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ نے ان سے کبھی نکاح نہیں فرمایا، اور آپ ﷺ نے کسی کندی عورت سے نکاح نہیں کیا سوائے بنو الجون کی اس بہن کے، آپ ﷺ اس کے مالک ہوئے (یعنی نکاح کیا)، لیکن جب وہ لائی گئی اور مدینہ پہنچی تو آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر طلاق دے دی اور اس کے ساتھ خلوت نہیں فرمائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6984M
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6984M] [ترقيم الشركة 6905/1]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(5) وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 140 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 614، وابن عساكر في "تاريخه" 3/ 228 - عن الواقدي بها الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 140) میں اور ان کے طریق سے طبری نے "تاریخ" (11/ 614) اور ابن عساکر نے "تاریخ" (3/ 228) میں واقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر الخبر الآتي عن أبي عبيدة برقم (6896).
نوٹ / توضیح: ابو عبیدہ سے آنے والی خبر آگے نمبر (6896) پر ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6984 سے ماخوذ ہے۔