کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی تھیں
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْوٍ، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا كثير بن هشام قال: جعفر بن بُرْقان: حدثنا يزيد بن الأصم ابن أخت ميمونة قال: تلقيتُ عائشة ﵂ وهي مُقبلةٌ من مكة أنا وابن الطلحة بن عبيد الله، وهو ابن أختها، وقد كنَّا وَقَعْنا في حائط من حيطان المدينة، فأصبنا منه، فبلغها ذلك، فأقبلت على ابن أختها تلومُه وتَعدُلُه، وأقبلت عليّ فوعظتني موعظة بليغة، ثم قالت: أما علمت أن الله تعالى ساقك حتى جعلك في أهل بيت نبيه؟! ذهبَتْ والله ميمونةٌ ورُميَ برَسَنِكَ على غاربكَ، أما إنها كانت من أتقانا الله ﷿ وأوصلنا للرَّحِم (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6799 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے یزید بن اصم سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور طلحہ بن عبید اللہ کے صاحبزادے (جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے) مکہ سے آتی ہوئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملے، ہم مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہو گئے تھے اور وہاں سے کچھ پھل وغیرہ کھا لیے تھے، جب انہیں یہ بات پہنچی تو وہ اپنے بھانجے کو ملامت کرنے اور ڈانٹنے لگیں، پھر میری طرف متوجہ ہو کر مجھے بڑی بلیغ نصیحت فرمائی اور کہا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کھینچ کر اپنے نبی کے اہل بیت میں لے آیا ہے؟ اللہ کی قسم! میمونہ تو رخصت ہو گئیں اور اب تمہاری رسی تمہاری پیٹھ پر ڈال دی گئی ہے (یعنی اب تمہارا کوئی نگران نہیں رہا)، خبردار! وہ ہم سب میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والی اور صلہ رحمی (رشتہ داروں سے اچھا سلوک) کرنے والی تھیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6966
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، كما قال الحافظ ابن حجر في الإصابة" 8/ 128. وقال الذهبي في "التلخيص": فيه دليل على أن ميمونة ماتت قبل عائشة ﵂، فبطل قول من قال: ماتت سنة إحدى وستين.» [ترقيم الرساله 6966] [ترقيم الشركة 6887] [ترقيم العلميه 6799]
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر حدثني إبراهيم بن محمد مولى خُزاعة، عن صالح بن محمد، عن أمّ ذَرَّةَ، عن ميمونة قالت: خرج رسول الله ﷺ ذات ليلة من عندي، فأغلقتُ دونَه الباب، فجاء يستفتح فأبيتُ أن أفتح، فقال: "أقسمتُ إِلَّا فتحت لي"، فقلتُ له: تذهب إلى أزواجِك في ليلتي؟ فقال: "ما فعلتُ، ولكن وجدتُ حَقْنًا من بول" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6800 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک رات میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے تو میں نے پیچھے سے دروازہ بند کر لیا، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور دروازہ کھلوانا چاہا تو میں نے کھولنے سے انکار کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میرے لیے دروازہ کھول دو“، میں نے عرض کی: کیا آپ میری باری والی رات میں اپنی دوسری ازواج کے پاس تشریف لے گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ مجھے پیشاب کی حاجت (شدت) «حَقْنًا من بول» محسوس ہوئی تھی گئی تھی (اس لیے باہر گیا تھا)۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6967
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، تفرد به الواقدي، وفيه كلام معروف، وإبراهيم مولى خزاعة لم نعرفه، وصالح بن محمد - وهو ابن زائدة المدني - ضعيف، وأم ذرة - وهي مولاة عائشة ﵂ روى عنها ثلاثة، ووثقها العجلي في "الثقات"، وذكرها ابن حبان في "الثقات"، فإن لم تكن هي، فلم نعرفها.» [ترقيم الرساله 6967] [ترقيم الشركة 6888] [ترقيم العلميه 6800]
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد ﵀، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا عبد العزيز الدَّرَاوَرْدي، أخبرني إبراهيم بن عُقبة، عن كريب، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "الأخوات مؤمنات: ميمونة زوج النَّبيِّ ﷺ وأختها أم الفضل بنت الحارث، وأختها سلمى بنت الحارث امرأة حمزة، وأسماء بنت عُميس أختُهنَّ لأُمِّهنَّ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6801 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ بہنیں سچی مومنہ ہیں: نبی کریم ﷺ کی زوجہ سیدہ میمونہ، ان کی بہن ام الفضل بنت حارث، ان کی دوسری بہن سلمیٰ بنت حارث جو سیدنا حمزہ کی اہلیہ تھیں، اور ان کی مادری بہن اسماء بنت عمیس۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6968
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز الدراوردي. ويغلب على ظننا أنه موقوف من قول ابن عباس، وهمَ الدراوردي في رفعه.» [ترقيم الرساله 6968] [ترقيم الشركة 6889] [ترقيم العلميه 6801]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا محمد بن عبد الوهاب العَبْدي، أخبرنا جعفر بن عون، أخبرنا ابن جُرَيج، عن عطاء قال: حضرنا مع ابن عباس جنازة ميمونة بسَرِفَ، فقال ابن عباس: هذه ميمونة، إذا رفعتم نَعْشَها فلا تُزَعزعوها ولا تُزلزِلُوها، فإنَّ رسول الله ﷺ كان عنده تسع نسوة، كان يَقسِمُ لثمانٍ، وواحدة لم يكن يَقسِمُ لها. قال عطاء: هي صفية (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
عطاء سے روایت ہے کہ ہم سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مقامِ سرف پر سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے جنازے میں شریک تھے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو اسے زیادہ حرکت نہ دینا اور نہ ہی جھٹکے دینا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے نکاح میں نو ازواج تھیں، آپ ﷺ آٹھ کے درمیان باری تقسیم فرماتے تھے اور ایک کے لیے باری مقرر نہ تھی۔“ عطاء کہتے ہیں: وہ (جن کی باری مقرر نہ تھی) سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان دونوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6969
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وابن جريج صرَّح بالتحديث عند البخاري وغيره فانتفت شبهة تدليسه.» [ترقيم الرساله 6969] [ترقيم الشركة 6890]
حدثنا محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أحمد ابن المقدام، حدثنا زهير بن العلاء العبدي، حدثنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة ابن دِعامة قال: تزوّج رسول الله ﷺ ميمونة بنت الحارث بن فروة - وهي أختُ أمِّ الفضل امرأةِ العبّاس بن عبد المطّلب - حين اعتمر بمكة، ووَهَبَت نفسها للنبي، وفيها نزل: ﴿وَامْرَأَةً مُؤْمِنَةً إِنْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَنْ يَسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَكَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ [الأحزاب: 50]، ثم صَدَرَت معه إلى المدينة، وكانت قبله عند فَرْوة بن عبد العُزَّى بن أسد من بني غَنْم بن دُودَان (1). [ذكر أم المؤمنين زينب بنت خزيمة العامرية]
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6803 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر
قتادہ بن دعامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ میمونہ بنت حارث بن فروہ سے نکاح فرمایا، جو سیدنا عباس بن عبدالمطلب کی اہلیہ ام الفضل کی بہن تھیں، یہ نکاح اس وقت ہوا جب آپ ﷺ نے مکہ میں عمرہ ادا فرمایا، انہوں نے اپنا آپ نبی کریم ﷺ کو ہبہ کر دیا تھا (تحفے کے طور پر پیش کیا تھا)، اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ ”اور وہ مومن عورت جو اپنا آپ نبی کو ہبہ کر دے، بشرطیکہ نبی اس سے نکاح کرنا چاہے، یہ رعایت خاص طور پر آپ کے لیے ہے نہ کہ دوسرے مومنوں کے لیے۔“ [سورة الأحزاب: 50] پھر وہ آپ ﷺ کے ساتھ مدینہ تشریف لائیں، آپ ﷺ سے قبل وہ بنو غنم بن دودان کے فروہ بن عبدالعزیٰ بن اسد کے نکاح میں تھیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6970
درجۂ حدیث محدثین: والإسناد إلى قتادة ضعيف لضعف زهير بن العلاء.
تخریج حدیث «قلنا: والإسناد إلى قتادة ضعيف لضعف زهير بن العلاء.» [ترقيم الرساله 6970] [ترقيم الشركة 6891] [ترقيم العلميه 6803]