کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس بات میں اختلاف کہ نبی کریم ﷺ کا سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح احلال کی حالت میں ہوا یا احرام میں
حدثنا بصحة ما ذكرتُه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا وهب بن جرير بن حازم، حدثنا أبي، قال: سمعت أبا فَزَارة يُحدِّث عن يزيد بن الأصم، عن ميمونة: أن رسول الله ﷺ تزوجها حلالًا، وبَنَى بها حلالًا بنى بها بسَرِفَ. وماتت بسَرِفَ في الليلة التي بَنَى بها فيها، وكانت خالتي، فنزلتُ في قبرها أنا وابن عبّاس، فلما وضعناها في اللحد مال رأسها، فأخذتُ رِدائي فجمعته فوضعته عند رأسها، فأخذه ابن عباس فرمى به، ووضع عند رأسها كَذَّانَةٌ، قال: وكانت حَلَقَت في الحج، وكان رأسُها مُجمَّمًا، وبين سَرِفَ ومكةَ اثنا عشر ميلًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. وقد نَطَقَ هذا الإسناد الصحيح بأن رسول الله ﷺ تزوجها حلالًا، فأما أخبار عكرمة عن ابن عبّاس فإنها ناطقةٌ أنه ﷺ تزوجها وهو مُحرِمٌ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يخرجاه. وقد نَطَقَ هذا الإسناد الصحيح بأن رسول الله ﷺ تزوجها حلالًا، فأما أخبار عكرمة عن ابن عبّاس فإنها ناطقةٌ أنه ﷺ تزوجها وهو مُحرِمٌ.
حافظ طلحہ بابر
یزید بن اصم سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ آپ ﷺ احرام میں نہیں تھے اور جب سرف کے مقام پر رخصتی ہوئی تب بھی آپ ﷺ حلال تھے، اور ان کی وفات بھی مقامِ سرف پر اسی رات میں ہوئی جس رات برسوں پہلے آپ ﷺ نے ان سے پہلی شب گزاری تھی، وہ میمونہ رضی اللہ عنہا میری خالہ تھیں، میں اور ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کی قبر میں اترے، جب ہم نے انہیں لحد میں رکھا تو ان کا سر ایک طرف ڈھلک گیا، میں نے اپنی چادر تہہ کر کے ان کے سر کے نیچے رکھنا چاہی تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسے لے کر پھینک دیا اور ان کے سر کے نیچے ایک پتھر «كذانه» رکھ دیا اور فرمایا: انہوں نے حج کے موقع پر سر منڈوایا تھا اس لیے ان کا سر چھوٹے بالوں والا تھا، مقامِ سرف اور مکہ کے درمیان بارہ میل کا فاصلہ ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ صحیح سند اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے حالتِ حلال میں نکاح فرمایا تھا، جہاں تک ابن عباس سے عکرمہ کی روایات کا تعلق ہے وہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ نے حالتِ احرام میں نکاح فرمایا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور یہ صحیح سند اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے حالتِ حلال میں نکاح فرمایا تھا، جہاں تک ابن عباس سے عکرمہ کی روایات کا تعلق ہے وہ کہتی ہیں کہ آپ ﷺ نے حالتِ احرام میں نکاح فرمایا تھا۔
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشَاذ العدل، قالا: أخبرنا بشر بن موسى، حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن عمرو بن دينار، أخبرني أبو الشعثاء، عن ابن عباس: أنَّ النبيَّ ﷺ نَكَحَ وهو مُحرم. قال عمرو: قد ذكرتُه للزهري، ثم قال: يا عمرو، مَن تُراها؟ قلتُ: يقولون: ميمونة، فقال ابن شهاب: أخبرني يزيد بن الأصم: أنَّ النبيَّ ﷺ تزوجها وهو حلال، فقال عمرٌو لابن شهاب: تجعل أعرابيًّا يبولُ على عَقِبه مثل ابن عبّاس؟ فقال ابن شهاب: هي خالته، فقال عمرو: هي خالة ابن عباس أيضًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6798 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6798 - صحيح على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوالشعثاء سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے (سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے) نکاح فرمایا جب کہ آپ ﷺ حالتِ احرام میں تھے۔ عمرو بن دینار کہتے ہیں: میں نے اس کا ذکر امام زہری سے کیا تو انہوں نے پوچھا: اے عمرو! تم کیا سمجھتے ہو وہ کون خاتون تھیں؟ میں نے کہا: لوگ کہتے ہیں کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ابن شہاب زہری نے کہا: مجھے یزید بن اصم نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے اس حال میں نکاح فرمایا کہ آپ ﷺ حلال (احرام کے بغیر) تھے۔ عمرو نے ابن شہاب زہری سے کہا: کیا تم ایک دیہاتی شخص کو، جو اپنی ایڑیوں پر پیشاب کر لیتا ہو، ابن عباس جیسے (عظیم فقیہ) کے برابر قرار دیتے ہو؟ ابن شہاب زہری نے جواب دیا: وہ (میمونہ) ان کی (یزید بن اصم کی) خالہ تھیں، تو عمرو نے کہا: وہ ابن عباس کی بھی تو خالہ تھیں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔