المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
كَانَتْ مَيْمُونَةُ أَتْقَانَا لِلَّهِ وَأَوْصَلَنَا لِلرَّحِمِ باب: سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کرنے والی تھیں
حدیث نمبر: 6967
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجهم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر حدثني إبراهيم بن محمد مولى خُزاعة، عن صالح بن محمد، عن أمّ ذَرَّةَ، عن ميمونة قالت: خرج رسول الله ﷺ ذات ليلة من عندي، فأغلقتُ دونَه الباب، فجاء يستفتح فأبيتُ أن أفتح، فقال: "أقسمتُ إِلَّا فتحت لي"، فقلتُ له: تذهب إلى أزواجِك في ليلتي؟ فقال: "ما فعلتُ، ولكن وجدتُ حَقْنًا من بول" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6800 - حذفه الذهبي من التلخيصحافظ طلحہ بابر
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ ایک رات میرے پاس سے باہر تشریف لے گئے تو میں نے پیچھے سے دروازہ بند کر لیا، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے اور دروازہ کھلوانا چاہا تو میں نے کھولنے سے انکار کر دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ میرے لیے دروازہ کھول دو“، میں نے عرض کی: کیا آپ میری باری والی رات میں اپنی دوسری ازواج کے پاس تشریف لے گئے تھے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایسا نہیں کیا، بلکہ مجھے پیشاب کی حاجت (شدت) «حَقْنًا من بول» محسوس ہوئی تھی گئی تھی (اس لیے باہر گیا تھا)۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف جدًّا، تفرد به الواقدي، وفيه كلام معروف، وإبراهيم مولى خزاعة لم نعرفه، وصالح بن محمد - وهو ابن زائدة المدني - ضعيف، وأم ذرة - وهي مولاة عائشة ﵂ روى عنها ثلاثة، ووثقها العجلي في "الثقات"، وذكرها ابن حبان في "الثقات"، فإن لم تكن هي، فلم نعرفها.
درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف جداً" (انتہائی ضعیف) ہے؛ اس میں واقدی منفرد ہے اور اس پر کلام مشہور ہے۔ ابراہیم مولیٰ خزاعہ کو ہم نہیں پہچان سکے۔ صالح بن محمد (ابن زائدہ مدنی) "ضعیف" ہے۔ ام ذرّہ—جو سیدہ عائشہ کی آزاد کردہ ہیں—ان سے تین لوگوں نے روایت کی ہے، عجلی اور ابن حبان نے انہیں "ثقہ" کہا ہے، اگر یہ (روایت میں موجود خاتون) وہ نہیں ہیں، تو پھر ہم انہیں نہیں جانتے۔
وأخرجه ابن سعد في الطبقات" 10/ 133 عن محمد بن عمر الواقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 133) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ سند "ضعیف جداً" (انتہائی ضعیف) ہے؛ اس میں واقدی منفرد ہے اور اس پر کلام مشہور ہے۔ ابراہیم مولیٰ خزاعہ کو ہم نہیں پہچان سکے۔ صالح بن محمد (ابن زائدہ مدنی) "ضعیف" ہے۔ ام ذرّہ—جو سیدہ عائشہ کی آزاد کردہ ہیں—ان سے تین لوگوں نے روایت کی ہے، عجلی اور ابن حبان نے انہیں "ثقہ" کہا ہے، اگر یہ (روایت میں موجود خاتون) وہ نہیں ہیں، تو پھر ہم انہیں نہیں جانتے۔
وأخرجه ابن سعد في الطبقات" 10/ 133 عن محمد بن عمر الواقدي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 133) میں محمد بن عمر الواقدی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6967 سے ماخوذ ہے۔