کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
حدَّثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدّثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدّثنا مصعب بن عبد الله الزُّبيريّ، حدّثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو بن أبي عمرو، أنه سمع أنس بن مالك يقول: لما افتَتَح النبيُّ ﷺ خيبَرَ اصطفى صفيَّةَ بنتَ حُيي لنفسه، خرج بها النبيُّ ﷺ يُردِفُها وراءَه، ثم قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ يضعُ رجله حتى تقوم عليها فتركب، فلمَّا بلغ سَدَّ الصهباء عَرَّسَ بها، فَصَنَعَ حَيْسًا في نِطْع، وأمرني فدعوتُ له من حوله، فكانت تلك وليمة رسول الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6786 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6786 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے خیبر فتح کیا تو آپ ﷺ نے سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کو اپنے لیے منتخب فرما لیا، آپ ﷺ انہیں اپنے پیچھے سواری پر بٹھا کر نکلے، سیدنا انس کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنا پاؤں رکھتے تاکہ وہ اس پر قدم رکھ کر سوار ہو سکیں، جب آپ ﷺ مقام سد الصہباء پہنچے تو وہاں رات گزاری اور چمڑے کے دسترخوان پر ”حیس“ (کھجور، پنیر اور گھی کا مجموعہ) تیار کیا اور مجھے حکم دیا تو میں نے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دی، یہی رسول اللہ ﷺ کا ولیمہ تھا۔
قال مصعب: وهي صفيَّة بنت حيي بن أخطب بن سعية بن ثعلبة بن عبيد بن الخزرج بن أبي حبيب بن النضر بن النحَّام بن ينحوم، من بني إسرائيل من سبط موسى ﵇، وأُمُّها بَرَّة بنت سَمَوال، هلكت في زمن معاوية.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا مصعب بن عبداللہ زبیری کہتے ہیں کہ سیدہ صفیہ، حیی بن اخطب بن سعیہ بن ثعلبہ بن عبید بن خزرج بن ابی حبیب بن نضر بن نحام بن ینحوم کی صاحبزادی ہیں، ان کا نسب بنی اسرائیل کے قبیلے سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام تک پہنچتا ہے، ان کی والدہ برہ بنت سموال تھیں، اور ان کی وفات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ہوئی۔
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العَدْل، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزبرقان، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا خالد الحذاء، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رباح، عن أبي هريرة قال: لما دخل رسول الله ﷺ بصفية بات أبو أيوب على باب النَّبيِّ ﷺ، فلما أصبح فرأى رسول الله ﷺ كبر، ومع أبي أيوبَ السَّيفُ، فقال: يا رسول الله، كانت جاريةً حديثة عهد بعرس، وكنت قتلت أباها وأخاها وزوجها، فلم آمَنْها عليكَ، فَضَحِكَ رسول الله ﷺ وقال له خيرًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6787 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6787 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شب باشی فرمائی تو سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے تلوار تھام کر نبی کریم ﷺ کے دروازے پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، جب صبح ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو نعرہ تکبیر بلند کیا، آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ، یہ ایک ایسی نوجوان خاتون تھیں جن کا ابھی نیا نکاح ہوا تھا جبکہ آپ نے ان کے والد، بھائی اور شوہر کو قتل کیا تھا، اس لیے میں ان کی طرف سے آپ کی جان کے بارے میں مطمئن نہ تھا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور ان کے حق میں کلمات خیر فرمائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔