المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهَا - باب: سیدہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے مناقب کا ذکر
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُراساني العَدْل، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزبرقان، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا خالد الحذاء، عن كثير بن زيد، عن الوليد بن رباح، عن أبي هريرة قال: لما دخل رسول الله ﷺ بصفية بات أبو أيوب على باب النَّبيِّ ﷺ، فلما أصبح فرأى رسول الله ﷺ كبر، ومع أبي أيوبَ السَّيفُ، فقال: يا رسول الله، كانت جاريةً حديثة عهد بعرس، وكنت قتلت أباها وأخاها وزوجها، فلم آمَنْها عليكَ، فَضَحِكَ رسول الله ﷺ وقال له خيرًا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6787 - صحيحسیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شب باشی فرمائی تو سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے تلوار تھام کر نبی کریم ﷺ کے دروازے پر پہرہ دیتے ہوئے رات گزاری، جب صبح ہوئی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تو نعرہ تکبیر بلند کیا، آپ ﷺ نے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ، یہ ایک ایسی نوجوان خاتون تھیں جن کا ابھی نیا نکاح ہوا تھا جبکہ آپ نے ان کے والد، بھائی اور شوہر کو قتل کیا تھا، اس لیے میں ان کی طرف سے آپ کی جان کے بارے میں مطمئن نہ تھا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ مسکرا دیے اور ان کے حق میں کلمات خیر فرمائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے کیونکہ اس میں کثیر بن زید (الاسلمی) ہیں جن میں کچھ "لین" (کمزوری) پائی جاتی ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 122 - ومن طريقه الطبري في "تاريخه" 11/ 610، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 16/ 46 - عن الواقدي، عن كثير بن زيد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (10/ 122)، طبری (11/ 610) اور ابن عساکر (16/ 46) نے واقدی عن کثیر بن زید کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وفي الباب عن ابن عبّاس عند ابن سعد 2/ 109، ومن طريقه أخرجه ابن عساكر 16/ 45، وفي إسناده محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، وحديثه حسن في المتابعات والشواهد، وهذا منها.
متابعات و شواہد: اس باب میں ابن عباس سے ابن سعد (2/ 109) میں روایت ہے—جسے ابن عساکر (16/ 45) نے بھی نقل کیا ہے—اس کی سند میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ہیں جن کی حدیث متابعات و شواہد میں "حسن" ہوتی ہے، اور یہ انہی میں سے ہے۔
وعن عروة بن الزبير مرسلًا عند البيهقي في "الدلائل" 4/ 231 - 233، ومن طريقه ابن عساكر 16/ 46.
حوالہ / مصدر: اور عروہ بن زبیر سے "مرسل" روایت بیہقی کی "دلائل" (4/ 231-233) میں ہے، جسے ابن عساکر (16/ 46) نے بھی نقل کیا ہے۔