حدیث نمبر: 6945
قال ابن عمر: فحدثني عبدُ الله بن أبي الأبيض مولى جُويرية، عن أبيه قال: سَبَى رسولُ الله ﷺ بني المُصطلِق، فوقعت جُوَيريةُ في السَّبي، فجاء أبوها فافتداها وأنكحَها رسولَ الله ﷺ بعدُ (2). وأما حديث محمد بن إسحاق إلى آخره قريبٌ من لفظِ الواقدي، والمعاني كلُّها واحدة.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوالابیض اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے بنو مصطلق کو قیدی بنایا تو سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا ان قیدیوں میں شامل تھیں، پھر ان کے والد آئے اور فدیہ دے کر انہیں چھڑایا اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح فرمایا۔ جہاں تک محمد بن اسحاق کی روایت کا تعلق ہے تو وہ آخر تک واقدی کے الفاظ کے قریب ہے اور ان سب کے معنی ایک ہی ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6945
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرَّة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرَّة، وعبد الله بن أبي الأبيض وأبوه لم نقف لهما على ترجمة.» [ترقيم الرساله 6945] [ترقيم الشركة 6865]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف بمرَّة، وعبد الله بن أبي الأبيض وأبوه لم نقف لهما على ترجمة.
درجۂ حدیث: یہ سند یکسر "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن ابی الابیض اور ان کے والد، دونوں کا کوئی سوانحی خاکہ (ترجمہ) ہمیں نہیں ملا۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 114، والطبري في "تاريخه" 11/ 609 من طريق الواقديّ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 114) اور طبری نے "تاریخ" (11/ 609) میں واقدی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6945 سے ماخوذ ہے۔