حدیث نمبر: 6944
فحدثنا عبد الله بن يزيد بن قُسيط (3)، عن أبيه، عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان، عن عائشةَ قالت: أصابَ رسولُ الله ﷺ نساءَ بني المُصطلق، فأخرج الخُمْسَ منه ثم قَسَمَه بين الناس، وأعطَى الفارسَ سهمينِ والراجلَ سهمًا، فوقعت جُويريةُ بنت الحارث بن أبي ضِرار في سهم ثابت بن قيس بن شمَّاس الأنصاريّ، وكانت تحتَ ابن عمٍّ لها يقال له: صفوانُ بن مالك بن جَذيمة، فقُتِلَ عنها، فكاتبها ثابتُ بن قيس على نفسِها على تسع أَواقٍ، وكانت امرأةً حُلوةً لا يكادُ يراها أحدٌ إِلَّا أخذت بنفسِه، فبَيْنا النبيُّ ﷺ عندي إذ دخلت جُويريةُ تسأله في كتابتها، فوالله ما هو إلَّا أن رأيتُها حتى كرهتُ دخولَها على النبيِّ ﷺ، وعَرَفتُ أن سَيرى فيها مثلَ الذي رأيتُ، فقالت: يا رسولَ الله، أنا جُويرية بنت الحارث سيِّدِ قومِه، وقد أصابني من الأمر ما قد علمتَ، فوقعتُ في سهم ثابت بن قيس، فكاتبنَي على تسع أَواقٍ فأعنِّي في فِكاكي، فقال: "أوَخيرٌ من ذلك؟ " قالت: ما هو؟ قال: "أُؤدِّي عنكِ كتابتَك وأتزوَّجُكِ"، قالت: نعم يا رسول الله، قال: "فقد فعلتُ"، فخرج الخبرُ إلى الناس، فقالوا: أصهارُ رسول الله ﷺ يُستَرقُّون؟! فأعتقُوا ما كان في أيديهم من سَبْي بني المُصطلِق، فبلغ عِتقُهم مئةَ أهل بيتٍ بتزويجه إياها، فلا أعلمُ امرأةً كانت أعظمَ بركةً على قومِها منها، وذلك مُنصَرَفَه عن غزوة المُريسيع (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جب بنو مصطلق کی خواتین کو بطور جنگی قیدی حاصل کیا، تو آپ ﷺ نے ان میں سے خمس (پانچواں حصہ) نکالا اور بقیہ کو لوگوں میں تقسیم فرما دیا، آپ ﷺ نے گھڑ سوار کو دو حصے اور پیادہ کو ایک حصہ دیا، تو سیدہ جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار انصاری صحابی ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئیں، وہ اس سے قبل اپنے چچازاد صفوان بن مالک بن جذیمہ کے نکاح میں تھیں جو قتل ہو چکا تھا، چنانچہ ثابت بن قیس نے ان کے ساتھ نو اوقیہ چاندی کے عوض ان کی آزادی کی مکاتبت کر لی، وہ ایک ایسی پرکشش اور خوبصورت خاتون تھیں کہ جو بھی انہیں دیکھتا ان سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جس وقت نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف فرما تھے اسی دوران جویریہ اپنی مکاتبت کے سلسلے میں مدد لینے کے لیے حاضر ہوئیں، اللہ کی قسم! جیسے ہی میں نے انہیں دیکھا مجھے ان کا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آنا ناگوار گزرا کیونکہ میں جانتی تھی کہ آپ ﷺ بھی ان میں وہی (حسن) ملاحظہ فرمائیں گے جو میں نے دیکھا ہے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میں اپنی قوم کے سردار حارث کی بیٹی جویریہ ہوں، اور مجھ پر جو آزمائش آئی ہے وہ آپ کے علم میں ہے، میں ثابت بن قیس کے حصے میں آئی ہوں اور انہوں نے مجھ سے نو اوقیہ پر مکاتبت کی ہے، پس آپ میری آزادی کے لیے میری مدد فرمائیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس سے بہتر بات پسند کرو گی؟“ انہوں نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہاری جانب سے مکاتبت کی رقم ادا کر دیتا ہوں اور تم سے نکاح کر لیتا ہوں“، انہوں نے عرض کی: ”جی ہاں یا رسول اللہ!“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے ایسا کر دیا“، جب یہ خبر لوگوں تک پہنچی تو انہوں نے کہا: ”کیا رسول اللہ ﷺ کے سسرالی رشتہ داروں کو غلام بنا کر رکھا جائے گا؟“ چنانچہ لوگوں کے پاس بنو مصطلق کے جو قیدی تھے انہوں نے ان سب کو آزاد کر دیا، آپ ﷺ کے ان سے نکاح کی برکت سے بنو مصطلق کے سو گھرانے آزاد ہوئے، میں کسی ایسی عورت کو نہیں جانتی جو اپنی قوم کے لیے ان سے بڑھ کر باعثِ برکت ثابت ہوئی ہو، اور یہ واقعہ غزوہ مریسع سے واپسی کے موقع کا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6944
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، وعبد الله بن يزيد فيه جهالة.» [ترقيم الرساله 6944] [ترقيم الشركة 6864]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) انقلب اسمه في النسخ الخطية إلى: يزيد بن عبد الله بن قسيط، وأثبتناه على الصواب من مصادر التخريج.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں ان کا نام الٹ کر "یزید بن عبداللہ بن قسیط" ہو گیا تھا، جسے ہم نے مصادرِ تخریج سے درست کیا ہے۔
(1) حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، وعبد الله بن يزيد فيه جهالة.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "حسن" ہے، جبکہ موجودہ سند "ضعیف" ہے، کیونکہ عبداللہ بن یزید میں "جہالت" (گمنامی) پائی جاتی ہے۔
وهو في "المغازي" للواقدي 1/ 411، ومن طريقه ابن سعد في "الطبقات" 10/ 113، وابن عساكر 3/ 216. ووقع في مطبوع "مغازي الواقديّ": عن ثوبان بدلًا من: محمد بن عبد الرحمن.
حوالہ / مصدر: یہ روایت واقدی کی "المغازی" (1/ 411) میں ہے، اور ان کے طریق سے ابن سعد نے "الطبقات" (10/ 113) اور ابن عساکر (3/ 216) میں نقل کی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: "مغازی الواقدی" کے مطبوعہ نسخے میں "محمد بن عبدالرحمن" کی جگہ غلطی سے "عن ثوبان" چھپ گیا ہے۔
وسلف مختصرًا برقم (6942) من طريق عروة عن عائشة.
نوٹ / توضیح: یہ روایت نمبر (6942) پر عروہ عن عائشہ کے طریق سے مختصراً گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6944 سے ماخوذ ہے۔