کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سے
حَدَّثَنَا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن عبد الله بن عثمان بن خُثيم، عن ابن أبي مُليكة قال: جاء ابن عبّاس يستأذنُ على عائشةَ في مرضِها، فأبَتْ أن تأذنَ له، فقال لها بنو أخيها: ائذني له، فإنه من خير ولدِك، قالت: دعوني مِن تزكيتِه، فلم يزالوا بها حتَّى أذِنت له، فلما دخلَ عليها قال ابن عَبَّاس: إنَّما سُمِّيتِ أُمّ المؤمنين لِتسعَدي، وإنه لاسمُك قبل أن تُولدي، إنَّكِ كنتِ من أحبِّ أزواج النَّبِيِّ ﷺ إليه، ولم يكن رسولُ الله ﷺ يحبُّ إلَّا طيّبًا، وما بينَكِ وبينَ أن تَلقَي الأحبةَ إلَّا أن تُفارقَ (1) الروحُ الجسدَ، ولقد سقطَتْ قِلادتُك ليلةَ الأبواء، فجعل الله للمسلمين خِيْرةً في ذلك، فأنزل الله ﵎ آيةَ التيمُّم، ونزلت فيكِ آياتٌ من القرآن، فليس مسجدٌ من مساجِد المسلمين إِلَّا يُتلى فيه عُذرُكِ آناءَ الليل وآناءَ النهار. فقالت: دَعْني من تزكيتِك لي يا ابنَ عبّاس، فوَدِدتُ أَنِّي كنتُ نَسيًا منسيًّا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6726 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6726 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی علالت کے دوران ان سے ملاقات کی اجازت چاہی، انہوں نے اجازت دینے سے انکار کیا تو ان کے بھتیجوں نے کہا: انہیں اجازت دے دیں کیونکہ وہ آپ کی بہترین اولاد میں سے ہیں، انہوں نے کہا: میری تعریف رہنے دو، وہ مسلسل اصرار کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے اجازت دے دی، جب وہ داخل ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”آپ کا نام ام المؤمنین اس لیے رکھا گیا تاکہ آپ سعادت مند رہیں، اور یہ نام آپ کی پیدائش سے بھی پہلے (مقدر) تھا، آپ رسول اللہ ﷺ کی سب سے محبوب زوجہ تھیں اور رسول اللہ ﷺ صرف پاکیزہ چیز سے ہی محبت فرماتے تھے، آپ کے اور محبوبوں سے ملنے کے درمیان بس روح کا جسم سے جدا ہونا باقی ہے، مقامِ ابواء کی رات آپ کا ہار گر گیا تھا تو اللہ نے اس میں مسلمانوں کے لیے خیر پیدا فرمائی اور تیمم کی آیت نازل کی، اور آپ کی شان میں قرآن کی آیات نازل ہوئیں، مسلمانوں کی کوئی مسجد ایسی نہیں ہے جہاں رات اور دن کے اوقات میں آپ کی برأت (پاکدامنی) کی تلاوت نہ کی جاتی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اے ابن عباس! مجھے اپنی تعریف سے معاف رکھو، اللہ کی قسم! میری تو یہ تمنا ہے کہ کاش میں بھولی بسری چیز ہوتی۔“
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى، حَدَّثَنَا إبراهيم بن أبي طالب، حَدَّثَنَا ابن أبي عمر، حَدَّثَنَا سفيان، عن أبي سعد سعيد بن المَرزُبان، عن عبد الرحمن بن الأسود، عن أبيه قال: قالت عائشة: ما تزوَّجني رسولُ الله ﷺ حتَّى أتاه جبريلُ بصُورتي، وقال: هذه زوجتُك، وتزوَّجني وإني لجاريةٌ عليَّ حَوْف، فلمَّا تزوجني ألقى الله عليَّ حياءً وأنا صغيرةُ (1). قال سفيان: قال الزُّهْري: الحَوْف: سُيُورٌ (2) تكون في وَسَطِها.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6727 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6727 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
اسود سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اس وقت تک نکاح نہیں کیا جب تک جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس میری تصویر لے کر نہیں آئے اور کہا: ”یہ آپ کی زوجہ ہیں،“ اور جب آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح کیا تو میں ایک ایسی لڑکی تھی جس نے ”حوف“ (چمڑے کے تسموں والا تہبند) پہنا ہوا تھا، پھر جب آپ ﷺ نے مجھ سے نکاح فرمایا تو اللہ نے مجھ پر حیا (کی صفت) ڈال دی حالانکہ میں چھوٹی عمر کی تھی۔ سفیان کہتے ہیں کہ زہری نے بیان کیا: ”حوف“ سے مراد وہ چمڑے کے تسمے ہیں جو درمیان (کمر) میں باندھے جاتے ہیں۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْوٍ، حَدَّثَنَا الحارث بن أبي أسامة، حَدَّثَنَا يزيد بن هارون، أخبرنا حماد بن سَلَمة، حَدَّثَنَا هشام بن عُرْوة، عن عوف بن الحارث بن الطُّفيل، عن رُمَيثةَ أمِّ عبد الله بن محمد بن أبي عَتيق، عن أمِّ سلمة قالت: كلَّمني صواحبي أن أُكلِّمَ رسولَ الله ﷺ أن يأمرَ الناسَ فيُهدُون له حيث كان، فإنَّ الناسَ يتحرَّونَ بهداياهم يومَ عائشة، وإِنَّا نُحِبُّ الخيرَ كما تحبُّه عائشةُ، فقلتُ: يا رسولَ الله، إنَّ صواحبي كلَّمْنَني أن أكلِّمك أن تأمرَ الناسَ فيُهدون لكَ حيث كنتَ، فإنَّ الناس يتحرَون بهداياهم يومَ عائشةَ، وإنَّا نحبُّ الخيرَ كما تحبُّه عائشةُ، فسكت رسولُ الله ﷺ فلم يُراجِعْني، فجاءني صواحبي، فأخبرتُهن بأنَّه ﷺ لم يُكلِّمني، فقُلنَ: والله لا تَدَعيهِ، وما هذا حينَ تَدَعيه، قالت: فدارَ فكلَّمتُه، فقلتُ: إِنَّ صواحبي قُلنَ لي أن أُكلِّمَك تأمرُ الناسَ فيُهدون لكَ حيث كنتَ، فقلتُ له مثلَ المقالة الأُولى مرَّتين أو ثلاثًا، كلُّ ذلك يسكتُ عنها رسولُ الله ﷺ، ثم قال: "يا أُمّ سَلَمة، لا تُؤذيني في عائشةَ، فإنِّي والله ما نزل الوحيُ عليَّ وأنا في بيتِ امرأةٍ من نسائي غيرَ عائشة" قالت: فقلتُ: أعوذُ بالله أن أسُوءَك في عائشة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6728 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6728 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری ساتھیوں (دیگر ازواجِ مطہرات) نے مجھ سے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ سے بات کروں کہ وہ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ ﷺ کو ہدیہ وہیں بھیج دیا کریں جہاں آپ ﷺ ہوں، کیونکہ لوگ اپنے ہدیے بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کا انتظار کرتے ہیں، اور ہم بھی خیر کو اسی طرح پسند کرتی ہیں جیسے عائشہ پسند کرتی ہیں، تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میری ساتھیوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ سے بات کروں کہ آپ لوگوں کو حکم دیں کہ وہ آپ کو ہدیہ وہیں بھیج دیا کریں جہاں آپ ہوں، کیونکہ لوگ اپنے ہدیے بھیجنے کے لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کا انتظار کرتے ہیں، اور ہم بھی خیر کو اسی طرح پسند کرتی ہیں جیسے عائشہ رضی اللہ عنہا پسند کرتی ہیں، تو رسول اللہ ﷺ خاموش رہے اور مجھے کوئی جواب نہ دیا، پھر میری ساتھیوں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے انہیں بتایا کہ آپ ﷺ نے مجھ سے کوئی کلام نہیں فرمایا، انہوں نے کہا: ”اللہ کی قسم! آپ اسے ایسے ہی نہ چھوڑیں، اور یہ چھوڑنے کا وقت نہیں ہے،“ وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر جب آپ ﷺ کی باری میرے ہاں آئی تو میں نے دوبارہ بات کی اور پہلی بار کی طرح ہی دو یا تین مرتبہ اپنی بات دہرائی، ان تمام مواقع پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! عائشہ کے معاملے میں مجھے تکلیف نہ دو، کیونکہ اللہ کی قسم! میری ازواج میں سے عائشہ کے سوا کسی اور کے بستر پر مجھ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔“ انہوں نے کہا: تو میں نے عرض کیا: ”میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ عائشہ کے معاملے میں آپ کو تکلیف پہنچاؤں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أبو أحمد محمد بن الحسين الشَّيباني، حَدَّثَنَا أبو عبد الرحمن أحمد بن شُعيب الفقيه النَّسائي بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن يحيى بن سعيد الأُموي، حدثني أبي، حدثني أبو العَنْبَس، عن أبيه، حدثتنا عائشةُ: أنَّ رسولَ الله ﷺ ذكر فاطمةَ، قالت: فتكلَّمتُ أنا، فقال: "أما ترضَيْنَ أن تكوني زوجتي في الدنيا والآخرة؟ " قلتُ: بلى والله، قال: "فأنتِ زوجتي في الدنيا والآخرة" (1). أبو العَنْبس هذا سعيد بن كثير مدنيٌّ ثقة، والحديث صحيح ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6729 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6729 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تذکرہ فرمایا، تو میں نے کچھ عرض کیا، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم دنیا اور آخرت میں میری زوجہ رہو؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! کیوں نہیں،“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس تم دنیا اور آخرت میں میری زوجہ ہو۔“
ابوالعنبس (سعید بن کثیر) مدنی ثقہ راوی ہیں، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
ابوالعنبس (سعید بن کثیر) مدنی ثقہ راوی ہیں، اور یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔