کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ہند اور ہالہ دونوں ابنِ ابو ہالہ رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر
قال مصعب: وذكروا بهذا الإسناد: أنَّ عبد الله بن عامر بن كُريز أُتي به النبيُّ ﷺ وهو صغير، فقال: "هذا شَبَهُنا"، وجعل رسولُ الله ﷺ يتفُلُ عليه ويعوِّذُه، فجعل عبد الله يتسوَّغ (2) ريقَ رسول الله ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "إنه لَمَسْقيٌّ"، فكان لا يُعالج أرضًا إلَّا ظهر له الماءُ، وله النِّباج الذي يُقال: نِباجُ عامر، وله الجُحْفة، وله بستانُ ابن عامر بنخلةَ على ليلةٍ من مكة، وله آبارٌ في الأرض كثيرة، وكان معاويةُ زوَّج عبدَ الله بن عامر ابنتَه هندَ، فكانت هند بنتُ معاوية أبرَّ شيء بعبد الله ابن عامر، وإنها جاءته يومًا بالمِرآة والمُشْط، وكانت تتولَّى خدمتَه بنفسِها، فنظرَ في المرآةِ فالتقى وجهُه وجهَها، فرأى شبابَها وجمالَها ورأى الشيبَ في لحيته قد ألحقَه بالشيوخ، فرفع رأسَه إليها، فقال: الحَقِي بأبيك، فانطَلقَت حتى دخلت على أبيها فأخبرَتْه، فقال معاويةُ: وهل تُطلَّق الحُرَّة؟ فقالت: ما أتَى من قِبَلي، فأخبرَتْه خبرَها، فأرسلَ إليه معاويةُ، فقال: أكرمتُك بابنتي، ثم رددَتها عليَّ، فقال: أخبِركُ عن ذاك؛ إنَّ الله ﵎ مَنَّ عليَّ بفضله وجعلني كريمًا، لا أحبُّ أن يتفضَّل عليَّ أحدٌ، إنَّ ابنتَك أعجزتني بمكافأتِها لحُسن صُحبتِها، فنظرتُ فإذا أنا شيخٌ وهي شابَّة لا أزيدُها مالًا إلى مالها، ولا شَرَفًا إلى شرفها، فرأيتُ أن أردَّها إليك لتزوِّجَها فتًى من فتيانك كأنَّ وجهَه ورقةُ مُصحَف (1). ذكرُ هندٍ وهالةَ ابنَي (2) أبي هالة ﵄-
حافظ طلحہ بابر
مصعب سے مروی ہے کہ اسی سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ جب چھوٹے تھے تو انہیں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہماری مشابہت رکھتا ہے،“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا لعابِ دہن ان پر ڈالا اور ان کے لیے تعوذ (دعا) فرمائی، عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے لعابِ دہن کو نگلنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو خوب سیراب کیا گیا ہے،“ چنانچہ وہ جس زمین پر بھی کام کرتے (کنواں کھودتے) وہاں سے پانی نکل آتا تھا، انہی کا وہ علاقہ ہے جسے ”نباجِ عامر“ کہا جاتا ہے، اور جحفہ بھی انہی کا ہے، مکہ سے ایک رات کی مسافت پر مقامِ نخلہ میں ان کا ”بستانِ ابنِ عامر“ (باغ) ہے اور زمین میں ان کے بہت سے کنویں ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی ہند کا نکاح عبداللہ بن عامر سے کیا تھا، ہند بنت معاویہ اپنے شوہر عبداللہ بن عامر کے ساتھ نہایت حسنِ سلوک سے پیش آتی تھیں، ایک دن وہ آئینہ اور کنگھی لے کر آئیں اور وہ خود ان کی خدمت کرتی تھیں، عبداللہ نے آئینے میں دیکھا تو ان کا چہرہ ہند کے چہرے کے سامنے آ گیا، انہوں نے ہند کی جوانی و خوبصورتی دیکھی اور اپنی داڑھی میں اس بڑھاپے کو دیکھا جس نے انہیں بوڑھوں میں شامل کر دیا تھا، انہوں نے سر اٹھا کر ہند سے کہا: ”تم اپنے والد کے پاس چلی جاؤ (یعنی تمہیں طلاق ہے)۔“ وہ اپنے والد کے پاس چلی گئیں اور انہیں صورتحال بتائی، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے (تعجب سے) کہا: ”کیا کسی معزز خاتون کو (ایسے) طلاق دی جاتی ہے؟“ ہند نے کہا: ”میری طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی تھی،“ پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کو بلا بھیجا اور کہا: ”میں نے اپنی بیٹی دے کر آپ کی عزت افزائی کی تھی اور آپ نے اسے مجھے واپس لوٹا دیا؟“ عبداللہ نے کہا: ”میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں؛ اللہ عزوجل نے مجھ پر اپنا فضل کیا اور مجھے ایک غیور و سخی انسان بنایا ہے، مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی مجھ پر فضیلت لے جائے، آپ کی بیٹی نے اپنی بہترین رفاقت کے ذریعے مجھے اس کا بدلہ چکانے سے عاجز کر دیا ہے، میں نے دیکھا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور وہ جوان ہے، میں اس کے مال یا شرف میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتا، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ اسے آپ کو لوٹا دوں تاکہ آپ اس کا نکاح کسی ایسے نوجوان سے کر دیں جس کا چہرہ قرآن کے ورق جیسا (حسین و تابناک) ہو۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق قال: هندُ بن أبي هالة بن مالك أحد بني أُسيد بن عمرو ابن تميم، حليفُ بني عبد الدار، وهو ابن خَديجة.
حافظ طلحہ بابر
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ہند بن ابی ہالہ بن مالک کا تعلق بنو اسید بن عمرو بن تمیم سے ہے، وہ بنو عبدالدار کے حلیف اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے تھے۔
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خَليفة (3)، حدثنا محمد بن سلَّام، حدثنا أبو عُبيدة قال: أبو هالة زوجُ خَديجة، اسمُه هند (4) بن النبَّاش بن زُرارة وابناه هندٌ وهالة، شَهِدَ هندٌ أحدًا.
حافظ طلحہ بابر
ابو عبیدہ سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے شوہر ابوہالہ کا نام ہند بن نباش بن زرارہ تھا اور ان کے دو بیٹے ہند اور ہالہ تھے، ہند نے غزوہ احد میں شرکت کی تھی۔
حَدَّثَنَا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو غسان، حَدَّثَنَا جُمَيع بن عمر العِجلي، حدثني رجلٌ [بمكة، عن ابن لأبي] (1) هالة التميمي، عن الحسن بن علي، قال: سألتُ خالي هندَ بن أبي هالة التَّميمي - وكان وصَّافًا - عن حِلْية رسولِ الله ﷺ، فذكر الحديثَ يطوله (2)
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے ماموں ہند بن ابی ہالہ تمیمی سے رسول اللہ ﷺ کے حلیہ مبارک کے بارے میں دریافت کیا - اور وہ حلیہ بیان کرنے میں بڑی مہارت رکھتے تھے - پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی۔
أخبرنا أبو جعفر البغدادي، حَدَّثَنَا علي بن محمد بن عمرو بن تميم بن زيد بن هالة [بن أبي هالة، قال: حدثني أبي محمد، عن أبيه عمرو بن تَميم، عن أبيه تميم، عن أبيه زيد بن هالة] (1) عن أبيه هالة: أنه دخلَ على رسول الله ﷺ وهو راقدٌ، فاستيقظ النَّبِيُّ ﷺ وضمَّ هالةَ إلى صدرِه، وقال: "هالةُ هالةُ هالةُ" كأنه ﷺ سُرَّ به لقرابته من خديجةَ ﵂ (2). ذكرُ عبد الله بن زَمْعة بن الأسود ﵁ -
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ہالہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ ﷺ آرام فرما رہے تھے، پھر نبی کریم ﷺ بیدار ہوئے اور ہالہ کو اپنے سینے سے لگا لیا اور (محبت سے) فرمایا: ”ہالہ! ہالہ! ہالہ!“ گویا آپ ﷺ کو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی قرابت داری کی وجہ سے بہت خوشی ہوئی۔
عبداللہ بن زمعہ بن اسود کا تذکرہ۔
عبداللہ بن زمعہ بن اسود کا تذکرہ۔