کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا الحسن بن علي بن نصر، حدثنا الزُّبير بن بكَّار قال: عبدُ الله بن عامر بن كُرَيز بن رَبيعة بن حَبيب بن عبد شمس بن عبد مَناف، وأمُّه دجاجةُ بنت أسماء بن الصَّلْت بن حبيب بن حارثة ابن هِلال بن حِزام، استعمله عثمانُ بن عفّان على البصرة، وعَزَلَ أبا موسى الأشعري، فقال أبو موسى: قد أتاكم فتًى من قريش كريمُ الأمهات والعمَّات والخالات، يقول بالمال فيكم هكذا وهكذا. وكان كثيرَ المناقب، وهو الذي افتتح خُراسانَ، وأحرمَ من نيسابور شكرًا لله تعالى، وعمل السِّقاياتِ بعرفةَ.
حافظ طلحہ بابر
زبیر بن بکار سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عامر بن کریز بن ربیعہ بن حبیب بن عبد شمس بن عبدمناف (ان کا نسب ہے)، ان کی والدہ دجاجہ بنت اسماء بن صلت بن حبیب بن حارثہ بن ہلال بن حزام تھیں، سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے انہیں ابوموسیٰ اشعری کو معزول کر کے بصرہ کا گورنر مقرر کیا تھا، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے (ان کے بارے میں) فرمایا: ”تمہارے پاس قریش کا ایک ایسا نوجوان آیا ہے جس کی مائیں، پھوپھیاں اور خالائیں سب نہایت معزز ہیں، وہ تم میں مال کو اس اس طرح (بکثرت) تقسیم کرے گا۔“ وہ بہت سے مناقب کے حامل تھے، انہوں نے ہی خراسان فتح کیا، اور اللہ تعالیٰ کے شکرانے کے طور پر نیشاپور سے احرام باندھا، اور میدانِ عرفات میں پانی پلانے کے انتظامات (سبیلیں) کیں۔
حدثني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق، حدثنا مصعب ابن عبد الله، حدثني أبي، عن جدِّي مصعب بن ثابت بن عبد الله بن الزُّبير، عن حنظلةَ بن قيس، عن عبد الله بن عامر بن كُرَيز وعبد الله بن الزُّبير، أنَّ النبيَّ ﷺ قال: "مَن قُتِلَ دون مالِه فهو شهيد" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6697 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6697 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عامر بن کریز اور سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کر دیا جائے وہ شہید ہے۔“