حدیث نمبر: 6842M
قال مصعب: وذكروا بهذا الإسناد: أنَّ عبد الله بن عامر بن كُريز أُتي به النبيُّ ﷺ وهو صغير، فقال: "هذا شَبَهُنا"، وجعل رسولُ الله ﷺ يتفُلُ عليه ويعوِّذُه، فجعل عبد الله يتسوَّغ (2) ريقَ رسول الله ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "إنه لَمَسْقيٌّ"، فكان لا يُعالج أرضًا إلَّا ظهر له الماءُ، وله النِّباج الذي يُقال: نِباجُ عامر، وله الجُحْفة، وله بستانُ ابن عامر بنخلةَ على ليلةٍ من مكة، وله آبارٌ في الأرض كثيرة، وكان معاويةُ زوَّج عبدَ الله بن عامر ابنتَه هندَ، فكانت هند بنتُ معاوية أبرَّ شيء بعبد الله ابن عامر، وإنها جاءته يومًا بالمِرآة والمُشْط، وكانت تتولَّى خدمتَه بنفسِها، فنظرَ في المرآةِ فالتقى وجهُه وجهَها، فرأى شبابَها وجمالَها ورأى الشيبَ في لحيته قد ألحقَه بالشيوخ، فرفع رأسَه إليها، فقال: الحَقِي بأبيك، فانطَلقَت حتى دخلت على أبيها فأخبرَتْه، فقال معاويةُ: وهل تُطلَّق الحُرَّة؟ فقالت: ما أتَى من قِبَلي، فأخبرَتْه خبرَها، فأرسلَ إليه معاويةُ، فقال: أكرمتُك بابنتي، ثم رددَتها عليَّ، فقال: أخبِركُ عن ذاك؛ إنَّ الله ﵎ مَنَّ عليَّ بفضله وجعلني كريمًا، لا أحبُّ أن يتفضَّل عليَّ أحدٌ، إنَّ ابنتَك أعجزتني بمكافأتِها لحُسن صُحبتِها، فنظرتُ فإذا أنا شيخٌ وهي شابَّة لا أزيدُها مالًا إلى مالها، ولا شَرَفًا إلى شرفها، فرأيتُ أن أردَّها إليك لتزوِّجَها فتًى من فتيانك كأنَّ وجهَه ورقةُ مُصحَف (1). ذكرُ هندٍ وهالةَ ابنَي (2) أبي هالة ﵄-
حافظ طلحہ بابر

مصعب سے مروی ہے کہ اسی سند کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عامر بن کریز رضی اللہ عنہ جب چھوٹے تھے تو انہیں نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں لایا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ ہماری مشابہت رکھتا ہے،“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنا لعابِ دہن ان پر ڈالا اور ان کے لیے تعوذ (دعا) فرمائی، عبداللہ رسول اللہ ﷺ کے لعابِ دہن کو نگلنے لگے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو خوب سیراب کیا گیا ہے،“ چنانچہ وہ جس زمین پر بھی کام کرتے (کنواں کھودتے) وہاں سے پانی نکل آتا تھا، انہی کا وہ علاقہ ہے جسے ”نباجِ عامر“ کہا جاتا ہے، اور جحفہ بھی انہی کا ہے، مکہ سے ایک رات کی مسافت پر مقامِ نخلہ میں ان کا ”بستانِ ابنِ عامر“ (باغ) ہے اور زمین میں ان کے بہت سے کنویں ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی ہند کا نکاح عبداللہ بن عامر سے کیا تھا، ہند بنت معاویہ اپنے شوہر عبداللہ بن عامر کے ساتھ نہایت حسنِ سلوک سے پیش آتی تھیں، ایک دن وہ آئینہ اور کنگھی لے کر آئیں اور وہ خود ان کی خدمت کرتی تھیں، عبداللہ نے آئینے میں دیکھا تو ان کا چہرہ ہند کے چہرے کے سامنے آ گیا، انہوں نے ہند کی جوانی و خوبصورتی دیکھی اور اپنی داڑھی میں اس بڑھاپے کو دیکھا جس نے انہیں بوڑھوں میں شامل کر دیا تھا، انہوں نے سر اٹھا کر ہند سے کہا: ”تم اپنے والد کے پاس چلی جاؤ (یعنی تمہیں طلاق ہے)۔“ وہ اپنے والد کے پاس چلی گئیں اور انہیں صورتحال بتائی، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے (تعجب سے) کہا: ”کیا کسی معزز خاتون کو (ایسے) طلاق دی جاتی ہے؟“ ہند نے کہا: ”میری طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی تھی،“ پھر انہوں نے سارا قصہ سنایا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کو بلا بھیجا اور کہا: ”میں نے اپنی بیٹی دے کر آپ کی عزت افزائی کی تھی اور آپ نے اسے مجھے واپس لوٹا دیا؟“ عبداللہ نے کہا: ”میں آپ کو اس کی وجہ بتاتا ہوں؛ اللہ عزوجل نے مجھ پر اپنا فضل کیا اور مجھے ایک غیور و سخی انسان بنایا ہے، مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی مجھ پر فضیلت لے جائے، آپ کی بیٹی نے اپنی بہترین رفاقت کے ذریعے مجھے اس کا بدلہ چکانے سے عاجز کر دیا ہے، میں نے دیکھا کہ میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور وہ جوان ہے، میں اس کے مال یا شرف میں کوئی اضافہ نہیں کر سکتا، اس لیے میں نے مناسب سمجھا کہ اسے آپ کو لوٹا دوں تاکہ آپ اس کا نکاح کسی ایسے نوجوان سے کر دیں جس کا چہرہ قرآن کے ورق جیسا (حسین و تابناک) ہو۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6842M
درجۂ حدیث محدثین: إسناده لين كسابقه
تخریج حدیث «إسناده لين كسابقه،» [ترقيم الرساله 6842M] [ترقيم الشركة 6762]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: يتسرع، والمثبت من "إتحاف المهرة" 6/ 701، ومن المصادر الآتي ذكرها.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "یتسرع" لکھا ہے، جبکہ جو یہاں ثابت کیا گیا ہے وہ "اتحاف المہرہ" 6/ 701 اور ذیل میں مذکور مصادر سے لیا گیا ہے۔
(1) إسناده لين كسابقه.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند پچھلی سند کی طرح کمزور (لین) ہے۔
وأورده تامًا ومقطعًا مصعب بن عبد الله في "نسب قريش" ص 148 - 149، والبلاذري في "أنساب الأشراف" 9/ 359، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 29/ 252 - 253 و 70/ 189، وابن الجوزي في "المنتظم" 5/ 311 - 312.
حوالہ / مصدر: اسے مکمل اور ٹکڑوں کی صورت میں مصعب بن عبد اللہ نے "نسب قریش" ص 148-149، بلاذری نے "انساب الاشراف" 9/ 359، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 29/ 252-253 اور 70/ 189، اور ابن الجوزی نے "المنتظم" 5/ 311-312 میں ذکر کیا ہے۔
(2) في (م) و (ص): ابنا، والمثبت من (ب).
نوٹ / توضیح: (2) نسخہ (م) اور (ص) میں "ابنا" ہے، جبکہ یہاں نسخہ (ب) سے متن ثابت کیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6842 سے ماخوذ ہے۔