کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله قال: عبد الله بن حُذافة بن قيس بن عَديّ بن سُعَيد ابن سَهْم بن عمرو بن هُصَيص بن كعب بن لؤي بن غالب بن فِهْر بن مالك.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی بن سعید بن سہم بن عمرو بن ہصیص بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک (ان کا نسب ہے)۔
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن عمر بن الحَكَم بن ثَوبان، عن أبي سعيد الخُدْري قال: بعثَ النبيُّ ﷺ علقمةَ بن مُجزِّز على بعثٍ، فلما بَلَغْنا رأسَ مَغْزانا (1) أَذِنَ لطائفة من الجيش، وأمَّر عليهم عبدَ الله بن حُذافة بن قيس السَّهمي، وكان من أهل بدر، وكانت فيه دُعابة، فإنه كان يُرحِّلُ ناقةَ رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه ليُضحكَه بذلك، وكان الرُّومُ قد أسَروه في زمن عمرَ بن الخطاب فأرادوه على الكُفر، فعَصَمَه اللهُ ﷿ حتى أنجاه الله ﵎ منهم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے علقمہ بن مجزز کو ایک مہم پر روانہ کیا، جب ہم اپنی منزل کے قریب پہنچے تو انہوں نے لشکر کی ایک جماعت کو (الگ مہم کی) اجازت دی اور ان پر سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، وہ اہل بدر میں سے تھے اور ان کے مزاج میں ظرافت تھی، وہ نبی کریم ﷺ کے بعض اسفار میں آپ ﷺ کی اونٹنی کو اس طرح چلاتے کہ آپ ﷺ کو ہنساتے تھے، اور یہ وہی شخصیت ہیں جنہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں رومیوں نے قید کر لیا تھا اور انہیں کفر پر مجبور کرنا چاہا تھا، مگر اللہ عزوجل نے انہیں ثابت قدم رکھا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں ان سے نجات عطا فرمائی۔
حدثنا أبو عبد الله الصَّفَار، حدثنا الحسن بن علي بن بحر بن بَرِّي، حدثنا سُوَيد بن سعيد، حدثنا قُرَّة بن عبد الرحمن بن حَيْوِيلَ، عن الزُّهْري، عن مسعود ابن الحَكَم، عن عبد الله بن حُذافة السَّهمي قال: أمرني رسولُ الله ﷺ أن أُنادي في أهل مِنى: أن "لا يصومَنَّ هذه الأيامَ أحدٌ، فإنها أيامُ أكلٍ وشُرب" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں منیٰ میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان کر دوں: ”ان دنوں میں کوئی بھی روزہ نہ رکھے، کیونکہ یہ کھانے اور پینے کے دن ہیں۔“
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا عُبيد بن شَريك البزَّار والفضل ابن محمد البيهقي، قالا: حدثنا نُعيم بن حماد، أخبرنا هُشيم، عن سيَّار (1)، عن أبي وائل، أنَّ عبد الله بن حُذافة بن قيس قال: يا رسولَ الله، من أبي؟ قال: "أبوك حُذافةُ، الولدُ للفِراش وللعاهرِ الحَجَرُ" قال: لو دعوتَني لَحَبشي لاتَّبعتُه، فقالت له أمُّه: لقد عرَّضتَني، فقال: إني أحببتُ أن أستريح (2). ذكرُ أبي بُرْدة بن نِيَار ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابووائل سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا باپ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا باپ حذافہ ہے، بچہ اسی کا ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو اور زانی کے لیے پتھر (محرومی) ہے۔“ انہوں نے عرض کیا: اگر آپ مجھے کسی حبشی کی طرف منسوب کر دیتے تو میں اس کی بھی پیروی کرتا، تو ان کی والدہ نے ان سے کہا: تم نے (ایسا سوال کر کے) میری عزت کو خطرے میں ڈال دیا تھا، انہوں نے جواب دیا: میں تو بس (اس شک سے) سکون پانا چاہتا تھا۔