حدیث نمبر: 6794
حدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم العبدي، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن محمد بن عمرو بن علقمة، عن عمر بن الحَكَم بن ثَوبان، عن أبي سعيد الخُدْري قال: بعثَ النبيُّ ﷺ علقمةَ بن مُجزِّز على بعثٍ، فلما بَلَغْنا رأسَ مَغْزانا (1) أَذِنَ لطائفة من الجيش، وأمَّر عليهم عبدَ الله بن حُذافة بن قيس السَّهمي، وكان من أهل بدر، وكانت فيه دُعابة، فإنه كان يُرحِّلُ ناقةَ رسول الله ﷺ في بعض أسفارِه ليُضحكَه بذلك، وكان الرُّومُ قد أسَروه في زمن عمرَ بن الخطاب فأرادوه على الكُفر، فعَصَمَه اللهُ ﷿ حتى أنجاه الله ﵎ منهم (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے علقمہ بن مجزز کو ایک مہم پر روانہ کیا، جب ہم اپنی منزل کے قریب پہنچے تو انہوں نے لشکر کی ایک جماعت کو (الگ مہم کی) اجازت دی اور ان پر سیدنا عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا، وہ اہل بدر میں سے تھے اور ان کے مزاج میں ظرافت تھی، وہ نبی کریم ﷺ کے بعض اسفار میں آپ ﷺ کی اونٹنی کو اس طرح چلاتے کہ آپ ﷺ کو ہنساتے تھے، اور یہ وہی شخصیت ہیں جنہیں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں رومیوں نے قید کر لیا تھا اور انہیں کفر پر مجبور کرنا چاہا تھا، مگر اللہ عزوجل نے انہیں ثابت قدم رکھا یہاں تک کہ اللہ نے انہیں ان سے نجات عطا فرمائی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6794
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن. يحيى بن بكير: هو ابن عبد الله بن بكير
تخریج حدیث «إسناده حسن. يحيى بن بكير: هو ابن عبد الله بن بكير، وعبد العزيز بن محمد: هو الدراوردي.» [ترقيم الرساله 6794] [ترقيم الشركة 6714] [ترقيم العلميه 6649]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: معرارًا، والمثبت من (ب).
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) اور (ص) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "معراراً" ہو گیا ہے، ہم نے نسخہ (ب) کے مطابق اسے درست کیا ہے۔
(2) إسناده حسن. يحيى بن بكير: هو ابن عبد الله بن بكير، وعبد العزيز بن محمد: هو الدراوردي.
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: یحییٰ بن بکیر سے مراد یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر ہیں اور عبد العزیز بن محمد سے مراد الدراوردی ہیں۔
وأخرجه مطولًا أحمد 18/ (11639)، وابن ماجه (2863)، وابن حبان (4558) من طريق يزيد بن هارون، عن محمد بن عمرو بن علقمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 18/ (11639)، ابن ماجہ (2863) اور ابن حبان (4558) نے یزید بن ہارون عن محمد بن عمرو بن علقمہ کی اسی سند سے تفصیلاً روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6794 سے ماخوذ ہے۔