کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عبد الملک ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور ان کے ان غلاموں کا بیان جو ان کے ساتھ اسلام لائے
أخبرنا أبو محمد المُزَني، حدثنا أبو خليفة القاضي، حدثنا محمد بن سلَّام الجُمَحي (1)، حدثنا أبو عُبيدة مَعمَر بن المثنَّى، قال: آبي اللَّحم اسمُه عبدُ الله ابن عبد الملك بن عبد الله بن عفَّان، وكان شريفًا شاعرًا، وشهدَ فتح خيبر ومعه عُميرٌ مولاه. قال أبو عبيدة: وإنما سُمِّي آبيَ اللَّحم لأنه كان يأبى أن يأكلَ اللَّحم.
حافظ طلحہ بابر
ابوعبیدہ معمر بن مثنیٰ سے مروی ہے کہ: آیی اللحم کا نام عبداللہ بن عبدالملک بن عبداللہ بن عفان تھا، وہ ایک معزز شاعر تھے، انہوں نے غزوہ خیبر میں شرکت کی اور ان کے غلام عمیر بھی ان کے ساتھ تھے، ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ انہیں آیی اللحم اس لیے کہا جاتا تھا کیونکہ وہ گوشت کھانے سے انکار کر دیتے تھے۔
أخبرني أحمد بن يعقوب، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا شَبَابٌ، فذكر هذا النَّسب. وقال محمد بن عمر: كان آبي اللَّحم ينزلُ الصفراءَ (2) على ثلاثٍ من المدينة، وعُميرٌ مولاه كان ينزلُ معه.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر کہتے ہیں کہ: آیی اللحم مدینہ سے تین (منزل) کے فاصلے پر مقامِ صفراء میں رہتے تھے اور ان کے غلام عمیر بھی ان کے ساتھ وہیں رہتے تھے۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا القَعْنَبي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن يزيد بن أبي عبيد، قال: سمعتُ عميرًا مولى آبي اللَّحم يقول: أمرني مولاي أن أُقدِّدَ (3) له لحمًا، فجاءني مسكينٌ فأطعمتُه منه، فضربني مولاي، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فدعاه فقال: "لِمَ ضربتَه؟ " فقال: يُطعِمُ طعامي من غير أن آمرَه، فقال رسولُ الله ﷺ: "الأجرُ بينَكما" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6613 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
آیی اللحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے آقا نے مجھے گوشت خشک کرنے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا تو میں نے اسے اس میں سے کچھ کھلا دیا، اس پر میرے آقا نے مجھے مارا، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے انہیں بلا کر پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ انہوں نے عرض کی: یہ میری اجازت کے بغیر میرا کھانا دوسروں کو کھلا دیتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان (تقسیم) ہوگا۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا ابن لَهِيعة، حدثني محمد بن زيد بن المهاجر بن قُنفذ، عن عُمير، مولى آبي اللَّحم قال: رأيتُ رسولَ الله ﷺ على أحجارِ الزيت يستسقي رافعًا كفَّيه (1). ذكرُ عمرو بن أُميَّة الضَّمْري ﵁-
حافظ طلحہ بابر
آیی اللحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو مقامِ احجار الزیت میں دونوں ہتھیلیاں اٹھا کر دعاِ استسقاء (بارش کی دعا) کرتے ہوئے دیکھا۔
(اس کے بعد) سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا ذکرِ خیر ہے۔
(اس کے بعد) سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کا ذکرِ خیر ہے۔