المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ آبِي اللَّحْمِ ، وَذِكْرُ مَوَالِيهِ الَّذِينَ أَسْلَمُوا مَعَهُ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُمْ باب: سیدنا عبد اللہ بن عبد الملک ابو اللحم رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر اور ان کے ان غلاموں کا بیان جو ان کے ساتھ اسلام لائے
حدیث نمبر: 6758
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مُسلم، حدثنا القَعْنَبي، حدثنا حاتم بن إسماعيل، عن يزيد بن أبي عبيد، قال: سمعتُ عميرًا مولى آبي اللَّحم يقول: أمرني مولاي أن أُقدِّدَ (3) له لحمًا، فجاءني مسكينٌ فأطعمتُه منه، فضربني مولاي، فأتيتُ رسولَ الله ﷺ فذكرتُ ذلك له، فدعاه فقال: "لِمَ ضربتَه؟ " فقال: يُطعِمُ طعامي من غير أن آمرَه، فقال رسولُ الله ﷺ: "الأجرُ بينَكما" (4).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6613 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
آیی اللحم کے غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے آقا نے مجھے گوشت خشک کرنے کا حکم دیا، اتنے میں ایک مسکین آیا تو میں نے اسے اس میں سے کچھ کھلا دیا، اس پر میرے آقا نے مجھے مارا، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ ﷺ نے انہیں بلا کر پوچھا: ”تم نے اسے کیوں مارا؟“ انہوں نے عرض کی: یہ میری اجازت کے بغیر میرا کھانا دوسروں کو کھلا دیتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اجر تم دونوں کے درمیان (تقسیم) ہوگا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّف في (م) و (ص) إلى: اقدر، والمثبت من (ب).
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں "اقدر" ہو گیا تھا، جسے نسخہ (ب) کے مطابق درست کیا گیا ہے۔
(4) إسناده صحيح. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي، والقعنبي: هو عبد الله ابن مسلمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو مسلم سے مراد ابراہیم الکجی اور القعنبی سے مراد عبد اللہ بن مسلمہ ہیں۔
أخرجه مسلم (1025) (83)، والنسائي (2329) عن قُتَيبة بن سعيد، عن حاتم بن إسماعيل، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 85) عن صفوان بن عيسى، عن يزيد بن أبي عبيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1025)، نسائی (2329) نے قتیبہ عن حاتم بن اسماعیل کی سند سے اور امام احمد (39/ 24009) نے صفوان بن عیسیٰ عن یزید بن ابی عبید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1025) (82)، وابن ماجه (2297)، وابن حبان (3360) من طريق محمد ابن زيد بن المهاجر، عن عمير، بنحوه.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور ابن حبان نے محمد بن زید کے طریق سے عمیر سے روایت کیا ہے۔
واستدراك الحاكم له ذهول منه.
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث پر "استدراک" کرنا (یہ کہنا کہ یہ صحیحین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے نہیں لیا) ان کی بھول (ذہول) ہے، کیونکہ یہ پہلے سے صحیح مسلم میں موجود ہے۔
نوٹ / توضیح: نسخہ (م) اور (ص) میں "اقدر" ہو گیا تھا، جسے نسخہ (ب) کے مطابق درست کیا گیا ہے۔
(4) إسناده صحيح. أبو مسلم: هو إبراهيم بن عبد الله بن مسلم الكجّي، والقعنبي: هو عبد الله ابن مسلمة.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو مسلم سے مراد ابراہیم الکجی اور القعنبی سے مراد عبد اللہ بن مسلمہ ہیں۔
أخرجه مسلم (1025) (83)، والنسائي (2329) عن قُتَيبة بن سعيد، عن حاتم بن إسماعيل، بهذا الإسناد. وأخرجه أحمد 39/ (24009/ 85) عن صفوان بن عيسى، عن يزيد بن أبي عبيد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم (1025)، نسائی (2329) نے قتیبہ عن حاتم بن اسماعیل کی سند سے اور امام احمد (39/ 24009) نے صفوان بن عیسیٰ عن یزید بن ابی عبید کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (1025) (82)، وابن ماجه (2297)، وابن حبان (3360) من طريق محمد ابن زيد بن المهاجر، عن عمير، بنحوه.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم، ابن ماجہ اور ابن حبان نے محمد بن زید کے طریق سے عمیر سے روایت کیا ہے۔
واستدراك الحاكم له ذهول منه.
فنی نکتہ / علّت: امام حاکم کا اس حدیث پر "استدراک" کرنا (یہ کہنا کہ یہ صحیحین کی شرط پر ہے مگر انہوں نے اسے نہیں لیا) ان کی بھول (ذہول) ہے، کیونکہ یہ پہلے سے صحیح مسلم میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6758 سے ماخوذ ہے۔