کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي (2)، قال: كان أبو رافع مولى رسول الله ﷺ للعبّاس بن عبد المُطَّلب، فلمّا أسلم العباس وَهَبَه للنبيِّ ﷺ، وكان اسمُه أسلمَ، ويقال: إبراهيم، وأسلمَ قبلَ بدر، ولكنَّه كان مقيمًا بمكةَ مع العبّاس، ومات بعدَ مَقتَل عثمان سنةَ خمسٍ وثلاثين.
حافظ طلحہ بابر
ابوبکر بن احمد بن بالویہ اور ابراہیم بن اسحاق حربی سے مروی ہے کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، پہلے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں تھے، پھر جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو انہوں نے انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہبہ کر دیا، ان کا نام اسلم تھا اور ایک قول کے مطابق ابراہیم تھا، وہ غزوہ بدر سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے لیکن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ ہی میں مقیم رہے، ان کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سنہ 35 ہجری میں ہوئی۔
أخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا أحمد بن نَجْدة، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا قيس بن الرَّبيع، عن أبي خالد يزيدَ بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن بن عبد الله مولى عليٍّ، عن أبي رافع قال: بَعَث النبيُّ ﷺ عليًّا إلى، اليمن، فعَقَدَ له لِواءً، فلمّا مضى قال: "يا أبا رافع، الحَقْه ولا تَدْعُه مِن (3) خلفِه، وليَقِفْ ولا يَلتفتْ حتى أَجيئَه" فأتاه فأوصاه بأشياءَ، فقال: "يا عليُّ، لَأن يهديَ الله على يديك رجلًا، خيرٌ لك ممّا طَلَعَت عليه الشمسُ" (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو یمن روانہ فرمایا اور ان کے لیے ایک جھنڈا باندھا، جب وہ چلے گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو رافع! ان کے پیچھے جاؤ اور انہیں پیچھے سے آواز نہ دینا، وہ ٹھہر جائیں اور مڑ کر نہ دیکھیں یہاں تک کہ میں ان کے پاس آ جاؤں۔“ پس وہ ان کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے انہیں چند باتوں کی وصیت فرمائی اور فرمایا: ”اے علی! اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک شخص کو بھی ہدایت عطا فرما دے تو یہ تمہارے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بُكير بن عبد الله بن الأشجِّ حدثه، أنَّ الحسن بن علي بن أبي رافع حدثه، أنَّ أبا رافع أخبره: أنه أقبلَ بكتابٍ من قريش إلى رسول الله ﷺ، قال: فلما رأيتُ النبيَّ (1) أُلقي في قلبي الإسلامُ، فقلت: يا رسولَ الله، إني والله لا أَرجعُ إليهم أبدًا، فقال رسولُ الله ﷺ: "إني لا أَخِيسُ بالعهد، ولا أحبسُ البُرُدَ، ولكن ارجِعْ إليهم، فإن كانَ في قلبِكَ الذي في قلبِكَ الآن فارجِعْ"، قال: فرجعتُ إليهم، ثم أقبلتُ على رسول الله ﷺ فأسلمتُ (2). ذكرُ سلمان الفارسي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قریش کا ایک خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی تڑپ پیدا ہو گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں اب ان کی طرف کبھی واپس نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نہ تو عہد شکنی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو روکتا ہوں، لیکن تم ابھی واپس چلے جاؤ، پھر اگر تمہارے دل میں وہی کیفیت رہی جو اس وقت ہے تو واپس آ جانا۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں واپس چلا گیا اور پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔