حدیث نمبر: 6681
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي (2)، قال: كان أبو رافع مولى رسول الله ﷺ للعبّاس بن عبد المُطَّلب، فلمّا أسلم العباس وَهَبَه للنبيِّ ﷺ، وكان اسمُه أسلمَ، ويقال: إبراهيم، وأسلمَ قبلَ بدر، ولكنَّه كان مقيمًا بمكةَ مع العبّاس، ومات بعدَ مَقتَل عثمان سنةَ خمسٍ وثلاثين.
حافظ طلحہ بابر

ابوبکر بن احمد بن بالویہ اور ابراہیم بن اسحاق حربی سے مروی ہے کہ ابو رافع رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام تھے، پہلے سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی ملکیت میں تھے، پھر جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسلام لائے تو انہوں نے انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ہبہ کر دیا، ان کا نام اسلم تھا اور ایک قول کے مطابق ابراہیم تھا، وہ غزوہ بدر سے پہلے ہی اسلام لا چکے تھے لیکن سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ ہی میں مقیم رہے، ان کی وفات سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد سنہ 35 ہجری میں ہوئی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6681
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6681] [ترقيم الشركة 6601]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) كذا جاء هنا في النسخ الخطية، والجادة أنَّ إبراهيم الحربي يرويه عن مصعب بن عبد الله الزبيري، فقد تكرر ذكر هذه السلسلة عند المصنف كثيرًا.
اہم نکتہ: خطی نسخوں میں یہاں اسی طرح مروی ہے، لیکن معروف بات (الجادة) یہ ہے کہ ابراہیم الحربی اسے مصعب بن عبد اللہ الزبیری سے روایت کرتے ہیں، اور مصنف کے ہاں یہ سند (سلسلہ) کثرت سے دہرائی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6681 سے ماخوذ ہے۔