حدیث نمبر: 6683
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ بُكير بن عبد الله بن الأشجِّ حدثه، أنَّ الحسن بن علي بن أبي رافع حدثه، أنَّ أبا رافع أخبره: أنه أقبلَ بكتابٍ من قريش إلى رسول الله ﷺ، قال: فلما رأيتُ النبيَّ (1) أُلقي في قلبي الإسلامُ، فقلت: يا رسولَ الله، إني والله لا أَرجعُ إليهم أبدًا، فقال رسولُ الله ﷺ: "إني لا أَخِيسُ بالعهد، ولا أحبسُ البُرُدَ، ولكن ارجِعْ إليهم، فإن كانَ في قلبِكَ الذي في قلبِكَ الآن فارجِعْ"، قال: فرجعتُ إليهم، ثم أقبلتُ على رسول الله ﷺ فأسلمتُ (2). ذكرُ سلمان الفارسي ﵁-
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6538 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ قریش کا ایک خط لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی تڑپ پیدا ہو گئی، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم میں اب ان کی طرف کبھی واپس نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نہ تو عہد شکنی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو روکتا ہوں، لیکن تم ابھی واپس چلے جاؤ، پھر اگر تمہارے دل میں وہی کیفیت رہی جو اس وقت ہے تو واپس آ جانا۔“ وہ کہتے ہیں کہ میں واپس چلا گیا اور پھر رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہو کر اسلام قبول کر لیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6683
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 6683] [ترقيم الشركة 6603] [ترقيم العلميه 6538]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) المثبت من مصادر التخريج، وفي النسخ الخطية: الكتاب، وهو سبق قلم.
فنی نکتہ / علّت: متن میں درست لفظ دیگر مصادرِ تخریج سے لیا گیا ہے، جبکہ خطی نسخوں میں لفظ "الکتاب" لکھا ہے جو کہ کاتب کی لغزش (سبقِ قلم) معلوم ہوتی ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 39 / (23857)، وأبو داود (2758)، والنسائي (8621)، وابن حبان (4877) من طرق عن عبد الله بن وهب بهذا الإسناد. لكن زيد في رواية أحمد وحده بين الحسن وجده أبي رافع: علي والد الحسن، وهو لا تعرف له رواية في الكتب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 39 / (23857)، ابو داود (2758)، نسائی (8621) اور ابن حبان (4877) نے عبد اللہ بن وہب کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: صرف امام احمد کی روایت میں حسن اور ان کے دادا ابو رافع کے درمیان حسن کے والد "علی" کا نام بڑھا دیا گیا ہے، جبکہ کتبِ حدیث میں ان (علی) کی کوئی روایت معروف نہیں ہے۔
قوله: "لا أَخيس العهد" قال السندي في "حاشية المسند": أي لا أنقضه، يقال: خاس يخيس ويخوس: إذا غدر ونقض العهد. و "البرد"، بضمتين، جمع بريد، بمعنى الرسول، أي: لا أحبس الرسل الواردين عليّ.
نوٹ / توضیح: "لا أَخیس العہد" کے بارے میں علامہ سندھی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب ہے "میں وعدہ خلافی نہیں کرتا"؛ عربی میں "خاس" کا لفظ دھوکہ دہی اور عہد شکنی کے لیے آتا ہے۔ "البرد" (باء اور راء پر پیش کے ساتھ) برید کی جمع ہے جس کا مطلب "قاصد یا رسول" ہے، یعنی: "میں اپنے پاس آنے والے قاصدوں کو قید نہیں کرتا"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6683 سے ماخوذ ہے۔