حدیث نمبر: 6670
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا خَليفة ابن خيَّاط (2) قال: ومن حُلَفاءِ بني هاشمٍ من غير أهل بدرٍ: شَدَّادُ بن الهادِ - واسمُ الهادِ أسامةُ -بنِ عَمرو بن عبد الله بن جابر بن بشر بن عتوارة بن عامر بن مالك بن الليث ابن بَكْر بن عبدِ مَنَاةَ بن علي بن كنانة، وهو أبو [عبد الله بنِ] شدّاد بن الهاد، وشدّادٌ سِلْفُ رسول الله ﷺ، كانت عنده سَلْمى بنت عُميس (1)، خَلَفَ عليها بعدَ حمزة ابن عبد المطلَّب.
حافظ طلحہ بابر

خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ: بنو ہاشم کے حلفاء میں سے (جو بدری نہیں تھے) شداد بن ہاد تھے —اور ہاد کا نام اسامہ تھا— بن عمرو بن عبداللہ بن جابر بن بشر بن عتوارہ بن عامر بن مالک بن لیث بن بکر بن عبدمناف بن علی بن کنانہ، یہ شداد بن ہاد کے والد تھے، اور شداد رسول اللہ ﷺ کے ہم زلف (سلف) تھے، ان کے نکاح میں سلمیٰ بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں، جو سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (کی شہادت) کے بعد ان کے نکاح میں آئی تھیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6670
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6670] [ترقيم الشركة 6590]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في "طبقاته" ص 8. وما بين المعقوفين منه.
حوالہ / مصدر: خلیفہ کی "الطبقات" ص 8؛ اور بریکٹ میں موجود عبارت وہیں سے لی گئی ہے۔
(1) وهي أخت أسماء بنت عميس، وهما أُختا ميمونة بنت الحارث زوج النبي ﷺ لأمِّها.
اہم نکتہ: یہ سلمیٰ بنت عمیس ہیں جو اسماء بنت عمیس کی بہن ہیں، اور یہ دونوں ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی مادری بہنیں (اخیافی بہنیں) ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6670 سے ماخوذ ہے۔