کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
أخبرني أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدثنا موسى بن زكريا التُّستَري، حدثنا خَليفة بن خيَّاط (1): قال: يَزيدُ بن ثابت بن الضَّحَّاك بن زيد بن لَوْذَانَ بن عمرو بن عَوف ابن غَنْم بن مالك بن النَّجّار، أمُّه وأمُّ أخيه زَيْد بن ثابتٍ النَّوّارُ بنت مالك بن عديّ ابن عامر بن عَدِيّ بن النَّجار، شَهِدَ بدرًا واستشهد يومَ اليَمامة.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط سے روایت ہے کہ: یزید بن ثابت بن ضحاک بن زید بن لوذان بن عمرو بن عوف بن غنم بن مالک بن نجار، ان کی اور ان کے بھائی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی والدہ نوار بنت مالک بن عدی بن عامر بن عدی بن نجار ہیں، انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کی اور جنگِ یمامہ کے دن جامِ شہادت نوش فرمایا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامري، حدثنا عبد الله بن نُمير، حدثنا عثمان بن حَكيم، عن خارجةَ بن زيد ابن ثابت، عن عمِّه يزيد بن ثابت: أنه كان مع رسول الله ﷺ وأصحابِه فطَلَعَت جنازةٌ، فلما رآها ثارَ وثارَ أصحابُه، فلم يزالوا قيامًا حتى بَعُدَت، ولا أَحسَبُهُ إِلَّا يهوديًّا أو يهوديّةً (2).
حافظ طلحہ بابر
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے چچا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ تھے کہ ایک جنازہ نمودار ہوا، جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے اور آپ کے صحابہ بھی کھڑے ہو گئے، وہ سب اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ جنازہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا، اور میرا خیال ہے کہ وہ کوئی یہودی مرد یا عورت تھی (جس کا وہ جنازہ تھا)۔