المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ يَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ أَخِي زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا باب: سیدنا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے مناقب کا ذکر جو سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے
حدیث نمبر: 6647
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفان العامري، حدثنا عبد الله بن نُمير، حدثنا عثمان بن حَكيم، عن خارجةَ بن زيد ابن ثابت، عن عمِّه يزيد بن ثابت: أنه كان مع رسول الله ﷺ وأصحابِه فطَلَعَت جنازةٌ، فلما رآها ثارَ وثارَ أصحابُه، فلم يزالوا قيامًا حتى بَعُدَت، ولا أَحسَبُهُ إِلَّا يهوديًّا أو يهوديّةً (2).
حافظ طلحہ بابر
خارجہ بن زید بن ثابت اپنے چچا یزید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: وہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کے ساتھ تھے کہ ایک جنازہ نمودار ہوا، جب آپ ﷺ نے اسے دیکھا تو آپ ﷺ کھڑے ہو گئے اور آپ کے صحابہ بھی کھڑے ہو گئے، وہ سب اس وقت تک کھڑے رہے جب تک وہ جنازہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا، اور میرا خیال ہے کہ وہ کوئی یہودی مرد یا عورت تھی (جس کا وہ جنازہ تھا)۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات إلّا أنه منقطع، فإنَّ خارجة بن زيد -وهو أحد فقهاء المدينة السبعة- لم يدرك عمّه يزيد.
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی ثقہ ہیں مگر سند منقطع ہے، کیونکہ خارجہ بن زید (جو مدینہ کے سات فقہاء میں سے ہیں) نے اپنے چچا یزید کو نہیں پایا۔
وأخرجه أحمد 32/ (19453) عن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 32/ (19453) میں عبد اللہ بن نمیر کی سند سے اسی طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا النسائي (2058) من طريق مروان بن معاوية الفزاري، عن عثمان بن حكيم الأوسي، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (2058) نے مروان بن معاویہ الفزاری عن عثمان بن حکیم الاوسی کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وفي باب القيام للجنازة غيرُ ما حديثٍ، انظرها في "مسند أحمد".
متابعات و شواہد: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کے باب میں مزید احادیث "مسند احمد" میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
ثارَ: أي: قامَ.
نوٹ / توضیح: لفظ "ثارَ" کے معنی یہاں "کھڑا ہو گیا" (قامَ) کے ہیں۔
درجۂ حدیث: یہ روایت "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کے راوی ثقہ ہیں مگر سند منقطع ہے، کیونکہ خارجہ بن زید (جو مدینہ کے سات فقہاء میں سے ہیں) نے اپنے چچا یزید کو نہیں پایا۔
وأخرجه أحمد 32/ (19453) عن عبد الله بن نمير، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 32/ (19453) میں عبد اللہ بن نمیر کی سند سے اسی طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مختصرًا النسائي (2058) من طريق مروان بن معاوية الفزاري، عن عثمان بن حكيم الأوسي، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (2058) نے مروان بن معاویہ الفزاری عن عثمان بن حکیم الاوسی کی سند سے مختصراً روایت کیا ہے۔
وفي باب القيام للجنازة غيرُ ما حديثٍ، انظرها في "مسند أحمد".
متابعات و شواہد: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کے باب میں مزید احادیث "مسند احمد" میں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں۔
ثارَ: أي: قامَ.
نوٹ / توضیح: لفظ "ثارَ" کے معنی یہاں "کھڑا ہو گیا" (قامَ) کے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6647 سے ماخوذ ہے۔