کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عبد الحميد الحارِثي، حدثنا أبو أُسامة، حدثني بُريد بن عبد الله. وقد خرَّجاه (2). ذكرُ جابر بن عبد الله ﵄
حافظ طلحہ بابر
برید بن عبداللہ سے روایت ہے (کہ سیدنا ابوسعید خدری کے فضائل میں یہ احادیث مروی ہیں)۔
اور اسے شیخین نے بھی روایت کیا ہے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر
اور اسے شیخین نے بھی روایت کیا ہے۔
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے مناقب کا ذکر
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق ﵄، حدثنا إسماعيل ابن قُتَيبة، حدثنا أبو بكر وعثمان ابنا أبي شَيْبة قالا: حدثنا عَبْدةُ بن سليمان، عن هشام بن عُرْوة، عن وهب بن كَيْسان قال: قيل لجابر بن عبد الله: يا أبا عبدِ الله (3).
حافظ طلحہ بابر
وہب بن کیسان سے روایت ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے (ان کی کنیت کے ساتھ) کہا گیا: ”اے ابوعبداللہ!۔“
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حدثنا مصعب بن عبد الله الزُّبَيري قال: جابرُ بن عبد الله بن عمرو بن حَرَام بن ثَعلَبة بن حَرَام بن كعب بن غَنْم بن كعب بن سَلِمَة بن سعد بن عليّ بن أسد ابن سارِدَةَ بن تَزِيدَ بن جُشَمَ بن الخَزرَج، وكان يُكنّى أبا عبد الله.
حافظ طلحہ بابر
مصعب بن عبداللہ زبیری سے روایت ہے کہ جابر بن عبداللہ بن عمرو بن حرام بن ثعلبہ سلمی خزرجی کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔
أخبرنا علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِيرِي قال: سمعت أبا نُعَيم يقول: مات جابرُ بن عبد الله سنةَ تِسْع وسبعين.
حافظ طلحہ بابر
ابونعیم سے روایت ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات 79 ہجری میں ہوئی تھی۔
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفرج، حدثنا محمد بن عمر قال: شَهِدَ جابرُ بن عبد الله العَقَبَةَ في السَّبعين من الأنصار الذين بايعَوا رسولَ الله ﷺ عندها، وكان من أصغرهم يومَئذٍ، وأراد شهودَ بدرٍ فخَلَّفه أبوه على أخَوَاته وكنَّ تِسعًا، وخَلَّفه أيضًا حين خرج إلى أُحدٍ، وشَهِدَ ما بعدَ ذلك من المشاهد.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر سے روایت ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ان ستر انصار کے ساتھ بیعتِ عقبہ میں شرکت فرمائی جنہوں نے وہاں رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی، اور وہ اس دن سب سے کم عمر شرکاء میں سے تھے، انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کا ارادہ کیا تھا لیکن ان کے والد نے انہیں اپنی نو بہنوں کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے چھوڑ دیا تھا، اور جب وہ احد کے لیے نکلے تب بھی ان کے والد نے انہیں پیچھے چھوڑا (تاکہ وہ بہنوں کا خیال رکھیں)، تاہم اس کے بعد کے تمام غزوات میں جابر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک رہے۔