فحدثنا أبو العبّاس، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوِري، حدثنا محمد بن عُبيدٍ، حدثنا الأعمش. وحدثنا عليُّ بن عيسى، حدثنا مسدَّد بن قَطَن، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عَبْدة بن سليمان، حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر قال: كنت أَمِيحُ لأصحابي يومَ بدرٍ من القَلِيب (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6399 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6399 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کے لیے کنویں سے پانی نکال (کر پلاتا) تھا۔“
فأخبرني مَخلَد بن جعفر، حدثنا محمد بن [جَرير، حدثنا] (2) الحارث، عن محمد بن سعد قال: قلت لمحمد بن عمر: إنَّ أهل الكوفة رَوَوْا عن الأعمش عن أبي سفيان عن جابر أنه قال: كنت أَمِيحُ لأصحابي يوم بدر من القَلِيب! فقال محمد بن عمر: هذا غلطٌ من رواية أهل العراق في جابر وأبي مسعود د الأنصاري، يُصيَّرونهما فيمن شَهِدَ بدرًا، ولم يرو ذلك موسى بنُ عُقبة ولا محمدُ بنُ إسحاق ولا أبو مَعشَرٍ، ولا أحدٌ ممَّن روى السِّيرةَ.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن عمر (واقدی) سے کہا: اہل کوفہ نے اعمش کے واسطے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں بدر کے دن اپنے ساتھیوں کے لیے کنویں سے پانی بھرتا تھا! تو محمد بن عمر نے کہا: یہ اہل عراق کی روایت کی غلطی ہے کہ وہ سیدنا جابر اور ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہما کو ان لوگوں میں شمار کرتے ہیں جو بدر میں شریک ہوئے، حالانکہ موسیٰ بن عقبہ، محمد بن اسحاق اور ابومعشر میں سے کسی نے بھی سیرت کی روایات میں اسے ذکر نہیں کیا۔
قال محمد بن عمر: وحدثني خارجةُ بن الحارث قال: مات جابرُ بن عبد الله سنة ثمانٍ وسبعين وهو ابنُ أربع وتسعين سنة، وكان قد ذهب بصرُه، ورأيتُ على سريره بُرْدًا، وصلَّى عليه أبانُ بن عثمان وهو والي المدينة (1).
حافظ طلحہ بابر
خارجہ بن حارث سے روایت ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات 78 ہجری میں ہوئی جبکہ ان کی عمر چورانوے برس تھی، وہ اپنی بینائی کھو چکے تھے، میں نے ان کے جنازے پر ایک یمنی چادر دیکھی اور مدینہ کے گورنر ابان بن عثمان نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔
أخبرنا محمد بن إبراهيم المزكِّي وعلي بن محمد القاضي قالا: حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا أبو كُرَيب، حدثنا وكيع، عن عبد الرحمن بن الغَسِيل، عن عاصم بن عمر بن قَتَادة قال: أتانا جابر بن عبد الله مُصفِّرَ رأسِه ولحيتِه (2).
حافظ طلحہ بابر
عاصم بن عمر بن قتادہ سے روایت ہے کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ہمارے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ ان کے سر اور داڑھی کے بال زرد (خضاب کی وجہ سے) تھے۔
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، عن سفيان، عن محمد بن المنكَدِر قال: سمعتُ جابرَ بن عبد الله يقول: دخلتُ على الحجَّاج فما سلَّمتُ عليه (3).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن منکدر سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”میں حجاج کے پاس گیا تو میں نے اسے سلام نہیں کیا۔“