حدیث نمبر: 6519
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: ورافعُ بن خَدِيج بن رافع بن عَدِيّ بن زيد بن جُشَمَ بن حارثةَ بن الحارث بن الخَزْرج بنِ عَمْرِو - وهو النَّبِيتُ- بن مالك بن أَوْس، شَهِدَ رافعٌ أُحدًا والخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ. وكان رافعٌ أصابه يومَ أُحدٍ سَهمٌ في تَرقُوتِه، فقال له رسول الله ﷺ: "إنْ شئتَ نَزَعتُ السَّهمَ، وتركتُ القُطْبةَ، وشَهِدتُ لك يومَ القيامة أنك شهيدٌ"، فتركها رافعٌ لقول رسول الله ﷺ، فكان لا يُحِسُّ منه شيئًا دَهْرًا، وكان إذا ضَحِكَ فاسْتَغْرِبَ بَدَا، فلما كان في خلافة عثمان انتَقَضَ به ذلك الجُرْحُ فمات منه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6379 - هذا لا يصح ولا يستقيم معناه
حافظ طلحہ بابر

رافع بن خدیج بن رافع بن عدی انصاری اوسی، رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ غزوہ احد، خندق اور تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ غزوہ احد کے دن انہیں ہنسلی کی ہڈی پر ایک تیر لگا، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں یہ تیر نکال دیتا ہوں لیکن اس کا پھل (تیر کا اگلا حصہ) اندر ہی رہنے دیتا ہوں اور قیامت کے دن تمہارے لیے گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو۔“ تو رافع نے رسول اللہ ﷺ کے اس فرمان کی برکت پانے کے لیے اسے اندر ہی رہنے دیا، چنانچہ ایک طویل عرصے تک انہیں اس کا احساس نہ ہوا، اور جب وہ کھل کر ہنستے تو وہ (تیر کا پھل) ظاہر ہو جاتا تھا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں وہ زخم دوبارہ ہرا ہو گیا جس کی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6519
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6519] [ترقيم الشركة 6443] [ترقيم العلميه 6379]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) أخرج قصة إصابة رافع هذه أحمد 45/ (27128) من طريق يحيى بن عبد الحميد بن رافع، عن جدّته امرأة رافع بن خديج: أنَّ رافعًا رُمي مع رسول الله ﷺ يوم أُحد … إلخ. وإسناده حسن.
حوالہ / مصدر: رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے زخمی ہونے کا یہ واقعہ امام احمد (45/ 27128) نے یحییٰ بن عبد الحمید بن رافع کے طریق سے، ان کی دادی (جو رافع کی اہلیہ تھیں) سے روایت کیا ہے کہ: "رافع بن خدیج کو غزوۂ احد کے دن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ لڑتے ہوئے تیر لگا..."
درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
والقُطبة: نصل السهم.
نوٹ / توضیح: "القُطبة" سے مراد تیر کا پھل (نصل السہم) ہے۔
واستغرب: أي: بالغ فيه.
نوٹ / توضیح: "استغرب" کا مطلب ہے کسی معاملے میں مبالغہ کرنا یا اس کی انتہا تک پہنچنا۔
وبَدَا: أي: ظَهَرَ وبانَ.
نوٹ / توضیح: "بَدَا" کا مطلب ہے کسی چیز کا ظاہر ہونا اور واضح ہو جانا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6519 سے ماخوذ ہے۔