کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس شرط پر بیعت کی کہ قتال نہیں کریں گے
فيما حدَّثَناه أبو ..... قال: سمعت عبد الله بن عمر يقول: ما آسَى على شيءٍ ..... (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”مجھے دنیا کی کسی چیز کے چھوٹ جانے کا اتنا غم نہیں جتنا اس بات کا افسوس ہے کہ میں نے (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر) باغی گروہ سے قتال نہیں کیا۔“
أخبرني قاضي القُضَاة أبو الحسن محمد بن صالح بن علي، حدثنا أبو أحمد محمد بن أحمد الجَريري البَجَلي صاحبُ أبَوَيِ العبّاس أحمد بن يحيى ومحمد بن يزيد، حدثنا أبو جعفر أحمد (4) بن الحارث الخرّاز مولى أمير المؤمنين المنصورِ وصاحبُ أبي عبد الله محمد بن زياد (5) الأعرابي، حدثنا علي بن محمد المَدائني، حدثني غسّان بن عبد الحميد قال: ما كان الناسُ يَشُكُّون أَنَّ ابن عمر يُبايع عليًّا على أن لا يقاتل معه، ورضي عليٌّ منه بذلك (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6361 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6361 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
غسان بن عبدالحمید سے روایت ہے کہ لوگوں کو اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس شرط پر بیعت کر لیں گے کہ وہ ان کے ہمراہ لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کی اس بات پر راضی تھے۔
قال أبو الحسن المَدَائني: وحدثني الأسود بن شَيْبان، عن خالد بن سُمَير، قال: سمعت موسى بن طلحة بن عبيد الله يقول: يَرحَمُ اللهُ أبا عبد الرحمن عبدَ الله ابنَ عمر، إني لأحسَبُه على العهد الذي عاهَدَه عليه رسولُ الله ﷺ لم يتغيَّرُ، والله ما استفزّتْه قريشٌ في فتنتِها الأُولى. فقلت: هذا يُزْري على أبيه (2).
حافظ طلحہ بابر
ابوالحسن مدائنی، موسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ”اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمن عبداللہ بن عمر پر رحم فرمائے، میرا گمان ہے کہ وہ اسی عہد پر قائم رہے جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے کیا تھا اور اس میں ذرہ برابر تبدیلی نہیں کی، اللہ کی قسم! قریش انہیں اپنے پہلے فتنے (سیاسی کشمکش) میں نہیں اکسا سکے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نے کہا: یہ بات تو ان کے والد (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کی شان میں کمی کرنے والی ہے (کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ابن عمر اپنے والد سے بہتر ثابت ہوئے)۔
أخبرنا حمزة بن العبّاس العَقَبي ببغداد، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّورِي، حدثنا أبو الجوَّاب الأحوَص بن جَوّاب، حدثنا عمَّار (3) بن رُزَيق، عن أبي إسحاق، عن عبد الرحمن بن عَوسَجة، عن البراء قال: عُرِضتُ أنا وابنُ عمر على رسول الله ﷺ يومَ بدرٍ فاستَصغَرَنا، وشَهِدْنا أُحدًا (4). قال الحاكم ﵀: قد قدَّمتُ في أول الترجمة حديثَ يزيد بن هارون بإسناده عن أنس: أنَّ ابن عمر شَهِدَ بدرًا، وهذا الإسنادُ أقوى منه، وقد اتَّفق الشيخان على حديث عُبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر: أنه عُرِضَ على رسول الله ﷺ وهو ابنُ أربع عشرة سنة، فلم يُجِزُه، وعُرِضَ عليه في الخندَق فأجازه، وهو أولُ مشهدٍ شَهِدَه، والله أعلم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور ابن عمر رضی اللہ عنہما غزوہ بدر کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے (شرکت کے لیے) پیش کیے گئے تو آپ ﷺ نے ہمیں کم عمر ہونے کی وجہ سے واپس کر دیا، پھر ہم غزوہ احد میں شریک ہوئے۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اس باب کے شروع میں یزید بن ہارون کی روایت سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بدر میں شریک ہوئے تھے، مگر یہ سند اس سے زیادہ قوی ہے، جبکہ شیخین نے اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما چودہ سال کی عمر میں پیش کیے گئے تو آپ ﷺ نے اجازت نہیں دی اور خندق کے موقع پر اجازت عطا فرمائی، اور یہی پہلا معرکہ تھا جس میں وہ شریک ہوئے، واللہ اعلم۔
امام حاکم فرماتے ہیں: میں نے اس باب کے شروع میں یزید بن ہارون کی روایت سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما بدر میں شریک ہوئے تھے، مگر یہ سند اس سے زیادہ قوی ہے، جبکہ شیخین نے اس حدیث پر اتفاق کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما چودہ سال کی عمر میں پیش کیے گئے تو آپ ﷺ نے اجازت نہیں دی اور خندق کے موقع پر اجازت عطا فرمائی، اور یہی پہلا معرکہ تھا جس میں وہ شریک ہوئے، واللہ اعلم۔
حدثني أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن إبراهيم الأَسَدي الحافظ بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين بن دِيزِيلَ، حدثني عَتِيقُ بن يعقوب قال: سمعت مالكَ ابنَ أنس ﵀ يقول: قال ليَ ابنُ شِهاب: لا تَعدِلَنَّ عن رأي ابن عمر، فإنه أقام بعدَ رسول الله ﷺ ستين سنةً فلم يَغبْي (1) عليه شيءٌ من أمرِ رسول الله ﷺ ولا من أمرِ أصحابه (2).
حافظ طلحہ بابر
امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن شہاب زہری نے مجھ سے فرمایا: ”تم کبھی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی رائے سے انحراف نہ کرنا، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ساٹھ سال تک زندہ رہے اور ان پر رسول اللہ ﷺ کے ارشادات اور آپ کے صحابہ کے احوال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہی۔“