کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اسلام میں پاکدامن اور اللہ کے فرمانبردار تھے
حدثني علي بن عيسى، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد ابن ميمون المكِّي ومحمد بن الصَّبّاح قالا: حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة قال: ذُكِرَ ابن الزُّبيرَ عند ابن عبّاس فقال: كان عفيفًا في الإسلام، قارئًا للقرآن (1)، كان أبوه الزُّبيرَ، وأمُّه أسماءُ، وجدُّه أبو بكر، وعمَّتُه خديجة، وجدَّته صفيَّة، وخالتُه عائشة، واللهِ لأحاسبنَّ له نَفْسي محاسبةً لم أحاسِبْها لأبي بكر ولا لعمر، ولكنه عَمَدَ فآثر عليَّ الحُمَيداتِ والأُساماتِ والتُّويتات (2). قال أبو علي القبَّاني (3): يريد بالحُمَيدات: حُمَيدَ بن زُهير بن الحارث بن أسد ابن عبد العُزَّى، وتُوَيتٌ ابنُ حَبيب بن أَسد بن العزَّى، وكان الزُّبيرُ ابنَ العوَّام بن خُوَيلد بن أسد بن عبد العزَّى.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6331 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے ابن زبیر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ ہوا تو انہوں نے فرمایا: وہ اسلام میں نہایت پاکدامن اور قرآن کے قاری تھے، ان کے والد زبیر، والدہ اسماء، نانا ابوبکر، پھوپھی خدیجہ، دادی صفیہ اور خالہ عائشہ (رضی اللہ عنہم) تھیں، اللہ کی قسم! میں نے ان کے معاملے میں اپنے نفس کا اتنا محاسبہ کیا جتنا ابوبکر و عمر کے لیے بھی نہیں کیا، لیکن انہوں نے جان بوجھ کر حمیدات، اسامات اور تویتات (یعنی اپنے خاندان کے مخصوص لوگوں) کو مجھ پر ترجیح دی، ابو علی قبانی کہتے ہیں کہ حمیدات سے مراد حمید بن زہیر اور تویتات سے مراد تویت بن حبیب کے خاندان والے ہیں جن کا تعلق بنو اسد سے تھا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدثنا محمد بن عبد الله بن نُمَير، حدثني أبي، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: مَحا ابنُ الزُّبير نفسَه من الِّديوان حين قُتِلَ عثمانُ (1).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت اپنا نام سرکاری دفتر (دیوان) سے خارج کر دیا تھا۔
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ حدثنا موسى بن هارون، حدثني سعيد بن يحيى بن سعيد الأَمَوي، حدثني أبي، عن الأعمش، عن شِمْر بن عطيَّة، عن هلال بن يَسَاف: حدثني البَرِيدُ الذي أَتى ابنَ الزُّبير برأس المختار، فلما رآه قال ابنُ الزُّبير: ما حدَّثني كعبٌ بحديث إلَّا وجدتُ مِصداقه، إلَّا أنه حدَّثني: أنَّ رجلًا من ثَقيفٍ سيَقتلُني. قال الأعمش وما يَدرِي أنَّ أبا محمدٍ - خَذَلَه الله - خُبِئَ له (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6333 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6333 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس قاصد نے بتایا جو مختار (ثقفی) کا سر لے کر ابن زبیر کے پاس آیا تھا، جب انہوں نے اسے دیکھا تو فرمایا: کعب نے مجھ سے جو بھی بات بیان کی میں نے اسے سچ پایا، سوائے اس کے کہ انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ قبیلہ ثقیف کا ایک شخص مجھے قتل کرے گا (ان کا خیال تھا کہ وہ مختار ہوگا)، اعمش کہتے ہیں کہ انہیں کیا خبر تھی کہ ابو محمد — اللہ اسے رسوا کرے — اس کے لیے چھپا کر رکھا گیا تھا۔