کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سات دن تک مسلسل روزہ رکھتے تھے
أخبرني أبو الحسين بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق، حدثنا إسماعيل بن أبي الحارث، حدثنا رَوْح بن عُبادة، حدثنا حَبيب بن الشَّهيد، عن ابن أبي مُلَيكة قال: كان ابن الزُّبير يواصلُ سبعة أيام، فيُصبِحُ يومَ الثالث وهو أَليَثُنا. يعني به كأنه لَيثٌ (3).
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما مسلسل سات دن کے روزے رکھتے تھے (وصال) اور تیسرے دن کی صبح بھی وہ ہم میں سب سے زیادہ شیر کی طرح طاقتور اور چاق و چوبند نظر آتے تھے۔
وأخبرني أبو الحسين، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا أحمد بن سعيد الدارمي، حدثنا أبو عاصم، عن عمر بن قيس قال: كان لابن الزُّبير مئةُ غلام، يتكلَّمُ كلُّ غلام منهم بلُغةٍ أخرى، فكان ابن الزُّبير يُكلِّم كلَّ واحد منهم بلُغَته، وكنتُ إذا نَظَرتُ إليه في أمر دُنْياه قلت: هذا رجل لم يُردِ الله طَرْفةَ عينٍ، وإذا نظرتُ إليه في أمر آخرتِه، قلت: هذا رجل لم يُرِدِ الدنيا طَرْفةَ عينٍ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6335 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6335 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عمر بن قیس بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس سو غلام تھے اور ہر غلام الگ زبان بولتا تھا، ابن زبیر ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اسی کی زبان میں گفتگو فرماتے تھے، جب میں ان کے دنیاوی معاملات کو دیکھتا تو کہتا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی آخرت کا ارادہ نہیں کیا، اور جب میں ان کے اخروی معاملات کو دیکھتا تو کہتا کہ یہ وہ شخص ہے جس نے پلک جھپکنے کی دیر کے لیے بھی دنیا کا ارادہ نہیں کیا۔
أخبرني أبو العبّاس السَّيّاري، حدثنا محمد بن موسى بن حاتم، حدثنا علي بن الحسن بن شَقِيق، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن أبي مُلَيكة قال: قال لي عمر بن عبد العزيز: إنَّ في قلبك من ابن الزُّبير، قال: قلت: ما رأيتُ مُناجيًا مثلَه، ولا مصلِّيًا مثله، ولا أخشنَ (2) في ذاتِ الله مثله، ولا أسخى نفسًا منه (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6336 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6336 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے پوچھا: کیا تمہارے دل میں ابن زبیر کے بارے میں کچھ (میل) ہے؟ میں نے عرض کیا: میں نے ان جیسا مناجات کرنے والا، ان جیسا نماز پڑھنے والا، اللہ کی راہ میں ان جیسا پختہ اور ان جیسا سخی دل انسان کبھی نہیں دیکھا۔