کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما مدینہ میں اسلام کے پہلے پیدا ہونے والے بچے تھے
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي بنَيسابُور، حدثنا يحيى ابن أيوب العلَّاف بمِضْر، حدثنا سعيد بن أبي مريم، حدثنا يعقوب بن أبي عبَّاد المكي، حدثنا محمد بن مُسلِم الطائفي، عن عمرو بن دينار، عن ابن عبّاس قال: كان التاريخُ في السنة التي قدِمَ فيها النبيُّ ﷺ المدينة، وفيها وُلِدَ عبدُ الله بن الزُّبير (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: تاریخ اسلامی کا آغاز اس سال سے ہوا جس میں نبی کریم ﷺ مدینہ تشریف لائے، اور اسی سال سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی پیدائش ہوئی۔
أخبرنا أبو الحسين علي بن عبد الرحمن السَّبِيعي بالكوفة، حدثنا الحسين بن الحَكَم الحِبَري، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا محمد بن شَريك، حدثني ابن أبي مُلَيكة، عن عبد الله بن الزُّبير قال: سُمِّيتُ باسم جدي أبي بكر، وكُنِّيتُ بكُنيته (3). وكان لعبد الله كُنْيتان: أبو بكر وأبو خُبَيب.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میرا نام میرے نانا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نام پر رکھا گیا اور میری کنیت بھی ان ہی کی کنیت پر رکھی گئی، اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی دو کنیتیں تھیں: «أَبُو بَكْرٍ» اور «أَبُو خُبَيْبٍ»۔
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن المنذر الحِزَامي، حدثني عبد الله بن محمد بن يحيى بن عُروة بن الزُّبير، حدثني هشام بن عُرْوة، عن أبيه قال: خَرَجَت أسماء بنت أبي بكر حين هاجَرَت إلى رسول الله ﷺ وهي حاملٌ بعبد الله بن الزُّبير، فنُفِسَتْه، فأَتَتْ به النبيَّ ﷺ ليُحنِّكَه، فأخذه رسولُ الله ﷺ فَوَضَعَه في حَجْرِه، وأُتِي بتمرة فمَصَّها ثم مَضَعَها، ثم وَضَعَها في فيهِ فحنَّكَه بها، فكان أوَّلَ شيءٍ دخل بطنَه رِيقُ رسول الله ﷺ، قالت: ثم مَسَحَه رسول الله ﷺ وسمَّاه عبدَ الله، ثم جاء بعدُ وهو ابنُ سبع سنين أو ابنُ ثمان سنين ليبايعَ النبي ﷺ، وأَمَره الزُّبير بذلك، فتبسَّم النبيُّ ﷺ حين رآه مُقبلًا وبايعَهَ. وكان أولَ من وُلِدَ في الإسلام بالمدينة مَقدَمَ رسولِ الله ﷺ، وكانت اليهود تقول: قد أخَّذْناهم (1)، لا يُولَدُ لهم بالمدينة ولدٌ ذكرٌ، فكبَّر أصحابُ رسول الله ﷺ حسين وُلِدَ عبد الله. وقال عبدُ الله بن عمر بن الخطَّاب حين سمع تكبيرَ أهل الشام وقد قَتَلوا عبدَ الله بنَ الزُّبير: الذين كبَّروا على مولدِه، خيرٌ من الذين كبَّروا على قتلِه (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6330 - عبد الله بن محمد بن يحيى بن عروة تركه أبو حاتم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6330 - عبد الله بن محمد بن يحيى بن عروة تركه أبو حاتم
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی تو وہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے حاملہ تھیں، پس ان کی ولادت ہوئی تو وہ انہیں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لائیں تاکہ آپ ﷺ ان کی تحنیک فرمائیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی گود میں لیا اور ایک کھجور منگوائی، اسے چبایا اور پھر اپنے دہن مبارک سے نکال کر ان کے منہ میں ڈال دی اور اس کے ذریعے ان کی تحنیک فرمائی، پس ان کے پیٹ میں جانے والی سب سے پہلی چیز رسول اللہ ﷺ کا لعابِ دہن مبارک تھا، راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان پر اپنا ہاتھ پھیرا اور ان کا نام عبداللہ رکھا، پھر وہ سات یا آٹھ سال کی عمر میں نبی کریم ﷺ کی بیعت کے لیے حاضر ہوئے جبکہ ان کے والد سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا، پس جب نبی کریم ﷺ نے انہیں آتے دیکھا تو تبسم فرمایا اور ان سے بیعت لی، اور وہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد مدینہ میں پیدا ہونے والے پہلے بچے تھے، اور یہودی (حسد کی وجہ سے) کہا کرتے تھے کہ ہم نے ان پر جادو کر دیا ہے اب مدینہ میں ان کے ہاں کوئی لڑکا پیدا نہیں ہوگا، پس جب عبداللہ پیدا ہوئے تو رسول اللہ ﷺ کے اصحاب نے نعرہ تکبیر بلند کیا، اور سیدنا عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے اس وقت فرمایا جب انہوں نے اہل شام کی تکبیروں کی آواز سنی جنہوں نے عبداللہ بن زبیر کو قتل کیا تھا: ”جن لوگوں نے ان کی پیدائش پر تکبیر کہی تھی وہ ان لوگوں سے بہتر تھے جنہوں نے ان کے قتل پر تکبیر کہی ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔