کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی زبان سوال کرنے والی اور دل عقل والا تھا
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: قال المهاجرون لعمر بن الخطّاب: ادْعُ أبناءَنا كما تدعو ابنَ عبّاس، قال: ذاكُم فتى الكهول، إنَّ له لسانًا سئوولًا، وقلبًا عَقُولًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6298 - منقطع
حافظ طلحہ بابر
امام زہری بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ ہمارے بیٹوں کو بھی (مجلس میں) بلایا کریں جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلاتے ہیں،“ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ تو ادھیڑ عمر کے پختہ کار لوگوں جیسا نوجوان ہے، اس کے پاس کثرت سے سوال کرنے والی زبان اور خوب سمجھ بوجھ رکھنے والا دل ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6431
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات وهو منقطع
تخریج حدیث «رجاله ثقات وهو منقطع، فالزهري لم يدرك عمر.» [ترقيم الرساله 6431] [ترقيم الشركة 6357] [ترقيم العلميه 6298]
أخبرني محمد بن أحمد القَنطَري ببغدادَ، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا أبو عاصم، عن عُمر بن سعيد بن أبي حُسين، حدثني إبراهيم بن عِكْرمة بن حُيَي (3)، قال: كنت أنا وحُيَىُّ بن يَعلَى وسعيدُ بن جُبَير، نأتي ابنَ عبّاس، فكنت أسأله عن النَّسَب، ويسأله حُيَي عن أيام العَرَب، ويسأله سعيدُ بن جبير عن الفُتْيا، فكأنما نَعْرِفُ من بحر (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6299 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
ابراھیم بن عکرمہ بن حیی بیان کرتے ہیں کہ میں، حیی بن یعلی اور سعید بن جبیر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جایا کرتے تھے، میں ان سے انساب کے بارے میں سوال کرتا تھا، حیی ان سے عربوں کے تاریخی معرکوں کے متعلق پوچھتے تھے اور سعید بن جبیر ان سے فقہی مسائل دریافت کرتے تھے، پس ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی اتھاہ سمندر سے فیض حاصل کر رہے ہوں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6432
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرقاشي
تخریج حدیث «إسناده حسن. أبو قلابة: هو عبد الملك بن محمد الرقاشي، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل.» [ترقيم الرساله 6432] [ترقيم الشركة 6358] [ترقيم العلميه 6299]
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد أحمد بن النَّضْر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدةُ، حدثنا عبد الرحمن بن الأصبهاني، حدثنا عبد الله بن شدّاد قال: قال عبد الله بن عبّاس: يا ابن شدّادٍ، أَلَا تَعجب، جاءني الغلامُ وقد أخذتُ مَضجَعي للقَيلُولة، فقال: هذا رجلٌ بالباب يستأذنُ، قال: فقلت: ما جاءَ به هذه الساعةَ إلَّا حاجةٌ، ائذن له، قال: فدخل فقال: ألا تخبرُني عن ذاك الرجل؟ قلت: أيُّ رجل؟ قال: عليُّ بن أبي طالب، قلت: عن أيِّ شأنِه؟ قال: متى يُبعَث؟ قلت: سبحانَ الله! يُبْعَثُ إذا بُعِثَ مَن في القبور، قال: فقال: ألا أَراكَ [تقول] كما يقولون هؤلاء الحمقى، فقلت: أَخرجوا عني هذا، فلا يَدخُلَنَّ عليَّ هذا، أو لأضربنَّه (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6300 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن شداد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اے ابن شداد! کیا تمہیں تعجب نہیں ہوتا، میرے پاس ایک لڑکا اس وقت آیا جب میں دوپہر کے آرام (قائلولہ) کے لیے لیٹ چکا تھا، اس نے کہا کہ دروازے پر ایک شخص اجازت مانگ رہا ہے، میں نے (دل میں) کہا کہ اسے اس وقت کوئی ضرورت ہی لائی ہوگی، اسے آنے دو، وہ داخل ہوا اور کہنے لگا: کیا آپ مجھے اس شخص کے بارے میں نہیں بتائیں گے؟ میں نے پوچھا: کون سا شخص؟ اس نے کہا: علی بن ابی طالب، میں نے پوچھا: ان کے کس معاملے کے بارے میں؟ اس نے کہا: وہ کب دوبارہ اٹھائے (زندہ کیے) جائیں گے؟ میں نے کہا: سبحان اللہ! وہ اسی وقت اٹھائے جائیں گے جب قبروں والے اٹھائے جائیں گے، تو اس نے کہا: میں آپ کو ویسا ہی کہتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جیسا یہ بیوقوف کہتے ہیں، اس پر میں نے کہا: اسے میرے پاس سے نکال دو، اور یہ میرے پاس دوبارہ ہرگز نہ آئے ورنہ میں اسے ماروں گا۔“
یہ اسناد شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6433
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،زائدة: هو ابن قدامة.» [ترقيم الرساله 6433] [ترقيم الشركة 6359] [ترقيم العلميه 6300]