حدیث نمبر: 6431
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنعاني بمكة حَرَسها الله تعالى، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن الزُّهْري قال: قال المهاجرون لعمر بن الخطّاب: ادْعُ أبناءَنا كما تدعو ابنَ عبّاس، قال: ذاكُم فتى الكهول، إنَّ له لسانًا سئوولًا، وقلبًا عَقُولًا (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6298 - منقطع
حافظ طلحہ بابر

امام زہری بیان کرتے ہیں کہ مہاجرین نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ ہمارے بیٹوں کو بھی (مجلس میں) بلایا کریں جیسے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو بلاتے ہیں،“ تو انہوں نے فرمایا: ”وہ تو ادھیڑ عمر کے پختہ کار لوگوں جیسا نوجوان ہے، اس کے پاس کثرت سے سوال کرنے والی زبان اور خوب سمجھ بوجھ رکھنے والا دل ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6431
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات وهو منقطع
تخریج حدیث «رجاله ثقات وهو منقطع، فالزهري لم يدرك عمر.» [ترقيم الرساله 6431] [ترقيم الشركة 6357] [ترقيم العلميه 6298]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات وهو منقطع، فالزهري لم يدرك عمر.
درجۂ حدیث: اس کے تمام رجال ثقہ ہیں لیکن یہ سند "منقطع" ہے، کیونکہ امام زہری نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
وهو في "جامع معمر" برواية عبد الرزاق برقم (20428)، ومن طريق عبد الرزاق أخرجه أحمد في "فضائل الصحابة" (1555)، والبيهي في "المدخل إلى السنن" (426).
حوالہ / مصدر: یہ روایت "جامع معمر" (رقم 20428) میں عبدالرزاق کی روایت سے موجود ہے، اور انہی کے طریق سے امام احمد (فضائل الصحابہ: 1555) اور بیہقی (المدخل: 426) نے نقل کیا ہے۔
والكهل من الرجال: مَن سنُّه في حدود الثلاثين أو جاوزها.
نوٹ / توضیح: مردوں میں "کَہل" اس شخص کو کہا جاتا ہے جس کی عمر تیس سال کے لگ بھگ ہو یا اس سے تجاوز کر چکی ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6431 سے ماخوذ ہے۔