أخبرني أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا ابن نُمَير، حدثنا ابن أبي عُبَيدة، حدثني أبي، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن ابن عبّاس قال: كنت قاعدًا عند عمر بن الخطَّاب إذْ جاءَه كتابٌ: أنَّ أهل الكوفة قد قرأَ منهم القرآنَ كذا وكذا، فكَبَّر ﵀، فقلت: اختَلَفوا؟ فقال: أُفٍّ، وما يُدريك؟ قال: فغَضِبتُ، فأَتيتُ المنزل، قال: فأَرسل إليَّ بعد ذلك فاعتَلَلْتُ له، فقال: عَزَمتُ عليك إلّا جئتَ، فأتيتُه، فقال: كنتَ قلتَ شيئًا، قلت: أستغفرُ الله، لا أعودُ إلى شيء بعدها، فقال: عَزَمتُ عليكَ إِلّا أعدتَ عليَّ الذي قلت، [قلتُ]: قلت: كُتِبَ إليَّ أنه قد قرأَ القرآنَ كذا وكذا، فقلتُ: اختَلَفوا، قال: ومن قِبَل أي شيءٍ عرفتَ؟ قلتُ: قرأتُ: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ﴾ حتى انتهيتُ إلى ﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ [البقرة: 204 - 205]، فإذا فعلوا ذلك لم يَصبِرْ صاحبُ القرآن، ثم قرأتُ: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾ [البقرة: 206 - 207]، قال: صدقت والذي نفسي بيده (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6301 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6301 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کے پاس ایک خط آیا جس میں یہ اطلاع تھی کہ اہل کوفہ میں سے اتنے اتنے لوگوں نے قرآن پڑھ (حفظ کر) لیا ہے، تو انہوں نے (خوشی سے) اللہ کی کبریائی بیان کی، میں نے عرض کیا: ”وہ باہم اختلاف کریں گے؟“ انہوں نے (ناگواری سے) کہا: ”افسوس! تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں (ان کے ڈانٹنے پر) غصے میں گھر آگیا، پھر انہوں نے تھوڑی دیر بعد مجھے بلایا تو میں نے معذرت چاہی لیکن انہوں نے کہا: ”میں تم پر زور دے کر کہتا ہوں کہ ضرور آؤ،“ پس میں ان کے پاس آیا، انہوں نے کہا: ”تم نے ایک بات کہی تھی،“ میں نے عرض کیا: میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں اور آئندہ ایسی بات نہیں کروں گا، انہوں نے فرمایا: ”میں تم پر تاکید کرتا ہوں کہ تم نے جو کہا تھا اسے میرے سامنے دہراؤ،“ میں نے عرض کیا: (خط میں) لکھا تھا کہ اتنے لوگوں نے قرآن پڑھ لیا ہے تو میں نے کہا کہ وہ اختلاف کریں گے، انہوں نے پوچھا: ”تمہیں یہ بات کس بنیاد پر معلوم ہوئی؟“ میں نے عرض کیا: میں نے یہ آیت پڑھی ہے: ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يُعْجِبُكَ قَوْلُهُ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيُشْهِدُ اللَّهَ عَلَى مَا فِي قَلْبِهِ﴾ ”اور لوگوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جس کی گفتگو دنیاوی زندگی میں آپ کو بھلی لگتی ہے اور وہ اپنے دل کی بات پر اللہ کو گواہ بناتا ہے“ یہاں تک کہ میں اس آیت پر پہنچا ﴿وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ﴾ ”اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔“ [سورة البقرة: 204 - 205] پس جب وہ (منافقین) ایسا کریں گے تو قرآن والا (مخلص مومن) خاموش نہیں رہ سکے گا، پھر میں نے یہ آیات پڑھیں: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ (206) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِي نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ﴾ ”اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈرو تو اسے اس کا غرور گناہ پر آمادہ کر دیتا ہے، پس اس کے لیے جہنم کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے، اور لوگوں میں سے وہ بھی ہے جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے اپنی جان بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں پر بہت مہربان ہے۔“ [سورة البقرة: 206 - 207] تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے (حقیقت یہی ہے)۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے۔
وأخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا إبراهيم ابن الحَجّاج السَّامي، حدثنا عبد الوارث بن سعيد حدثنا أبو قَبِيصة سُكَين بن عبد العزيز (2) المُجاشعي، حدثني عبد الله بن عُبَيد بن عُمير قال: بينما ابنُ عبّاس مع عمر وهو آخذٌ بيده، فقال عمر: أَرى القرآنَ قد ظَهَرَ في الناس، فقلت: ما أُحِبُّ ذاكَ يا أمير المؤمنين، قال: فاجتَذَبَ يدَه من يدي وقال: لِمَ؟ قلتُ: لأنهم متى يَقرؤوا يَنفِروا، ومتى ما يَنفِروا يختلفوا، ومتى ما يختلفوا يضربْ بعضُهم رِقابَ بعض، فقال: فحُبِسَ عني وتَرَكني، فظَلِلتُ بيومٍ لا يعلمُه إلَّا الله، ثم أَتاني رسولُه عند الظُّهر فقال: أَجِبْ أميرَ المؤمنين، قال: فأتيتُه، فقال لي: كيف قلتَ؟ قلتُ: ما أحبُّ ذاك يا أمير المؤمنين، إنهم متى ما يقرؤُوا يَنفروا، ومتى ما يَنفِرُوا اختلفوا، ومتى ما يَختلِفوا يضربْ بعضُهم رقابَ بعض، فقال عمر: إن كنتُ لأكاتمُها الناسَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6302 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھام رکھا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں دیکھ رہا ہوں کہ قرآن لوگوں میں بہت عام ہو گیا ہے،“ میں نے عرض کیا: ”اے امیر المومنین! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے،“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے میرا ہاتھ جھٹک کر چھوڑ دیا اور پوچھا: ”کیوں؟“ میں نے عرض کیا: ”اس لیے کہ جب وہ کثرت سے پڑھیں گے تو (سمجھے بغیر عجلت میں) آگے بڑھیں گے، اور جب تیزی دکھائیں گے تو باہم اختلاف کریں گے، اور جب وہ اختلاف کریں گے تو ایک دوسرے کی گردنیں ماریں گے،“ راوی کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے چھوڑ دیا اور مجھ سے کنارہ کشی اختیار کر لی، پس مجھ پر وہ دن (خوف و اضطراب میں) اس طرح گزرا جسے اللہ ہی جانتا ہے، پھر ظہر کے وقت ان کا قاصد آیا اور کہا: ”امیر المومنین کے بلاوے پر حاضر ہو جاؤ،“ میں ان کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے کیا کہا تھا؟“ میں نے پھر عرض کیا: ”اے امیر المومنین! مجھے یہ بات پسند نہیں، کیونکہ جب وہ (قرآن) کثرت سے پڑھیں گے تو عجلت کریں گے، اور جب عجلت کریں گے تو اختلاف کریں گے، اور جب اختلاف کریں گے تو ایک دوسرے کی گردنیں ماریں گے،“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک میں بھی اس بات کو لوگوں سے چھپائے ہوئے تھا (یعنی میرے دل میں بھی یہی خطرہ تھا)۔“