کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کے مشکل مسائل میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سوالات
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وَهْب بن جَرير وأبو داود قالا: حدثنا شُعبة، عن أبي بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس قال: كان عمرُ يسألُني مع أصحاب النبي ﷺ، فقال له عبدُ الرحمن بن عَوْف: أتسألُه ولنا بَنُونَ مثله؟! قال: فقال عمر: إنَّه من حيثُ تَعلَمُ، قال: فسألهم عن ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾، قال: فقلت: هو أَجَلُ رسولِ الله ﷺ؛ وقرأَ السورةَ إلى آخرها ﴿إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾، قال: فقال عمر: والله ما أعلمُ منها إلَّا ما تَعلَمُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6296 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ کے دیگر جلیل القدر صحابہ کی موجودگی میں علمی سوالات کیا کرتے تھے، تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے (اعتراضاً) ان سے کہا: ”آپ ان سے سوال کرتے ہیں حالانکہ ہمارے بھی ان جیسے بیٹے ہیں (یعنی یہ ابھی کم عمر ہیں)؟“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے علمی مقام کے بارے میں تم بخوبی جانتے ہو۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سب سے اللہ تعالی کے اس فرمان ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] کے متعلق دریافت کیا، تو میں نے عرض کیا: ”اس سے مراد رسول اللہ ﷺ کی وفات کا وقت قریب آنا ہے (جس کی اطلاع اس سورت میں دی گئی ہے)؛“ اور میں نے پوری سورت ﴿إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا﴾ تک تلاوت کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں بھی اس سورت کے بارے میں وہی کچھ جانتا ہوں جو تم جانتے ہو۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6429
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو داود: هو سليمان بن داود الطيالسي، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية. وأخرجه الترمذي (3362) عن عبد بن حميد، عن أبي داود سليمان بن داود وحده، بهذا الإسناد. وقال: حديث حسن صحيح.» [ترقيم الرساله 6429] [ترقيم الشركة 6355] [ترقيم العلميه 6296]
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا يوسف ابن كامل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم بن كُلَيب، عن أبيه، عن ابن عبّاس قال: كان عمرُ بن الخطّاب إذا دَعَا الأشياحَ من أصحاب محمدٍ ﷺ دعاني، معهم، فدعانا ذاتَ يومٍ - أو ذاتَ ليلة - فقال: إنَّ رسول الله ﷺ قال في ليلة القَدْر ما قد عَلِمتُم: "فالتَمِسُوها في العَشْر الأواخر"، ففي أيِّ الوِتْر تَرَونَها؟ فقال بعضهم: تاسِعُه، وقال بعضهم: سابعُه خامسُه ثالثُه، فقال: ما لك يا ابنَ عبّاس لا تَكلَّم؟ قلت: إن شئتَ تكلَّمتُ قال: ما دعوتُك إلَّا لتَكلَّمَ، فقال: أقولُ برأيٍ؟ فقال: عن رأيك أسألُك، فقلت: إني سمعتُ الله ﵎ أكثرَ ذِكرَ السَّبْعِ فقال: السماواتُ سَبْع، والأَرْضُون سَبْع، وقال: ﴿ثُمَّ (2) شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا (26) فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (27) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (28) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (29) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (30) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 26 - 31]، فالحدائقُ: كلُّ مُلتفٍّ، وكل ملتفٍّ حديقةٌ، والأبُّ: ما أنبتَت الأرضُ مما لا يأكلُ الناسُ، فقال عمر: أعَجَزتُم أن تقولوا مثلَ ما قال هذا الغلامُ الذي لم تَستَوِ شُؤونُ رأسِه، ثم قال: إني كنتُ نهيتُك أن تكلَّمَ، فإذا دعوتُك معهم فتكلَّمْ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6297 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب رسول اللہ ﷺ کے بزرگ صحابہ کو دعوت دیتے تو مجھے بھی ان کے ساتھ بلا لیتے تھے، ایک دن —یا ایک رات— انہوں نے ہمیں بلا کر فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ نے لیلۃ القدر کے بارے میں جو فرمایا وہ تمہیں معلوم ہے کہ: ”اسے آخری دس راتوں میں تلاش کرو،“ پس تمہاری کیا رائے ہے کہ یہ کن طاق راتوں میں ہو سکتی ہے؟“ بعض نے کہا: نویں رات، بعض نے ساتویں، کسی نے پانچویں اور کسی نے تیسری رات کا کہا، پھر انہوں نے مجھ سے پوچھا: ”اے ابن عباس! تم کیوں نہیں بولتے؟“ میں نے عرض کیا: ”اگر آپ کی اجازت ہو تو میں کلام کروں،“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے تمہیں بلایا ہی اس لیے ہے کہ تم گفتگو کرو،“ میں نے پوچھا: ”کیا میں اپنی رائے پیش کروں؟“ انہوں نے فرمایا: ”میں تم سے تمہاری رائے ہی دریافت کر رہا ہوں،“ تو میں نے عرض کیا: ”بے شک میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالی نے سات کے عدد کو بڑی اہمیت دی ہے؛ آسمان سات بنائے اور زمینیں سات بنائیں، اور (زمین کی نباتات کے ذکر میں) فرمایا: ﴿ثُمَّ شَقَقْنَا الْأَرْضَ شَقًّا (26) فَأَنْبَتْنَا فِيهَا حَبًّا (27) وَعِنَبًا وَقَضْبًا (28) وَزَيْتُونًا وَنَخْلًا (29) وَحَدَائِقَ غُلْبًا (30) وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [سورة عبس: 26 - 31]، پس «حدائق» سے مراد ہر وہ درخت ہے جو ایک دوسرے میں پیوست ہو کر باغ بن جائے، اور «أبّ» سے مراد وہ سبزہ ہے جو زمین سے اگتا ہے اور انسانوں کے کھانے کے کام نہیں آتا (بلکہ چارہ ہے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے (دیگر صحابہ سے) فرمایا: ”کیا تم اس نوجوان جیسی بات کرنے سے بھی عاجز آگئے جس کے سر کے جوڑ ابھی پوری طرح ملے بھی نہیں؟“ پھر مجھ سے فرمایا: ”میں نے تمہیں (پہلے) کلام کرنے سے منع کیا تھا، لیکن اب جب میں تمہیں ان کے ساتھ مدعو کروں تو تم ضرور بات کیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6430
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن إن شاء الله
تخریج حدیث «خبر قوي، وهذا إسناد حسن إن شاء الله من أجل يوسف بن كامل، فقد روى عنه غير واحد، وذكره ابن حبان في "الثقات" 9/ 280، وهو متابع.» [ترقيم الرساله 6430] [ترقيم الشركة 6356] [ترقيم العلميه 6297]