کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں جبریل علیہ السلام کو دیکھا
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عاصم بن علي، حدثتنا زينبُ بنت سليمان بن علي بن عبد الله بن عبّاس، حدثني أَبي قال: سمعت أَبي يقول؛ قال: بَعَثَ العبّاس ابنه عبد الله إلى النبي ﷺ فنام وراءَه، وعند النبي ﷺ رجلٌ، فالْتَفَت النبيُّ ﷺ فقال: "متى جئتَ يا حبيبي؟ " قال: مُذْ ساعةٍ، قال: "هل رأيتَ عندي أَحدًا؟ " قال: نعم، رأيتُ رجلًا، قال: "ذاك جبريلُ ﵇، ولم يَرَه خَلْقٌ إِلَّا عَمِيَ إلَّا أن يكون نبيًّا، ولكنْ أن يُجعَلَ ذلك في آخر عُمرِك"، ثم قال: "اللهمَّ علِّمه التأويلَ، وفقِّهْه في الدِّين، واجعَلْه من أهلِ الإيمان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6287 - بل منكر
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6287 - بل منكر
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا، پس وہ آپ ﷺ کے پیچھے سو گئے، اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص موجود تھا، نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف التفات فرمایا اور پوچھا: ”اے میرے پیارے! تم کب آئے؟“ انہوں نے عرض کیا: تھوڑی دیر پہلے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے میرے پاس کسی کو دیکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے ایک آدمی دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، اور انہیں (ان کی اصل شکل میں) کوئی مخلوق نہیں دیکھتی مگر یہ کہ وہ اندھی ہو جائے سوائے اس کے کہ وہ نبی ہو، لیکن (ان کی زیارت کا یہ شرف) تمہاری آخری عمر میں تمہارے کام آئے گا،“ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ، وَفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَاجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ» ”اے اللہ! اسے قرآن کی تفسیر و تاویل سکھا، اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما اور اسے کامل ایمان والوں میں شامل کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، حدثنا أبو عاصم، حدثنا شَبِيب بن بِشْر، حدثنا عِكْرمة، عن ابن عبّاس قال: دخل رسول الله ﷺ المَخرَجَ ثم خرج، فإذا تَوْرٌ مغطًّى، فقال رسول الله ﷺ: "مَن صَنَعَ هذا؟ " قلت: أنا، فقال رسول الله ﷺ: "اللهمَّ علِّمْه تأويلَ القرآن" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6288 - شبيب بن بشر فيه لين
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6288 - شبيب بن بشر فيه لين
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت الخلا تشریف لے گئے، پھر جب باہر آئے تو وہاں (وضو کے لیے) پانی کا ایک ڈھکا ہوا برتن پایا، رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کس نے رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: میں نے، تو رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ تَأْوِيلَ الْقُرْآنِ» ”اے اللہ! اسے قرآن کی تفسیر و تاویل کا علم عطا فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش، عن مسلم بن صُبَيح، عن مسروق قال: قال عبد الله: لو أنَّ ابن عبّاس أَدرَك أسنانَنا، ما عَشَرَه منا أَحدٌ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6289 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6289 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
مسروق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر ابن عباس رضی اللہ عنہ ہماری عمروں کو پہنچ جاتے، تو ہم میں سے کوئی بھی ان کے دسویں حصے کے برابر بھی نہ ہوتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن يعقوب بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق بن إبراهيم حدثنا عبد الله بن عمر، حدثنا أبو معاوية عن الأعمش، عن شَقِيق قال: خَطَبَ ابنُ عبّاس وهو على المَوسِم، فافتتح سورة النُّور، فجعل يقرأُ ويفسِّر، فجعلتُ أقول: ما رأيتُ ولا سمعتُ كلامَ رجلٍ مثلَه، لو سمعَه فارسُ والرُّومُ لأَسلمَت (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6290 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6290 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
شقیق بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حج کے موقع پر (لوگوں کے سامنے) خطبہ دیا، انہوں نے سورہ نور کا آغاز کیا اور اس کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کی تفسیر بیان کرنے لگے، میں نے (حیرت سے) کہنا شروع کر دیا کہ میں نے اس جیسا کلام نہ کبھی دیکھا اور نہ سنا، اگر فارس اور روم کے لوگ اسے سن لیتے تو ضرور اسلام لے آتے۔