حدیث نمبر: 6420
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عاصم بن علي، حدثتنا زينبُ بنت سليمان بن علي بن عبد الله بن عبّاس، حدثني أَبي قال: سمعت أَبي يقول؛ قال: بَعَثَ العبّاس ابنه عبد الله إلى النبي ﷺ فنام وراءَه، وعند النبي ﷺ رجلٌ، فالْتَفَت النبيُّ ﷺ فقال: "متى جئتَ يا حبيبي؟ " قال: مُذْ ساعةٍ، قال: "هل رأيتَ عندي أَحدًا؟ " قال: نعم، رأيتُ رجلًا، قال: "ذاك جبريلُ ﵇، ولم يَرَه خَلْقٌ إِلَّا عَمِيَ إلَّا أن يكون نبيًّا، ولكنْ أن يُجعَلَ ذلك في آخر عُمرِك"، ثم قال: "اللهمَّ علِّمه التأويلَ، وفقِّهْه في الدِّين، واجعَلْه من أهلِ الإيمان" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6287 - بل منكر
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبداللہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا، پس وہ آپ ﷺ کے پیچھے سو گئے، اس وقت نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص موجود تھا، نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف التفات فرمایا اور پوچھا: ”اے میرے پیارے! تم کب آئے؟“ انہوں نے عرض کیا: تھوڑی دیر پہلے، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تم نے میرے پاس کسی کو دیکھا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں، میں نے ایک آدمی دیکھا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبرائیل علیہ السلام تھے، اور انہیں (ان کی اصل شکل میں) کوئی مخلوق نہیں دیکھتی مگر یہ کہ وہ اندھی ہو جائے سوائے اس کے کہ وہ نبی ہو، لیکن (ان کی زیارت کا یہ شرف) تمہاری آخری عمر میں تمہارے کام آئے گا،“ پھر آپ ﷺ نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ التَّأْوِيلَ، وَفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَاجْعَلْهُ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ» ”اے اللہ! اسے قرآن کی تفسیر و تاویل سکھا، اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرما اور اسے کامل ایمان والوں میں شامل کر دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6420
درجۂ حدیث محدثین: منكر وإسناده ضعيف
تخریج حدیث «منكر وإسناده ضعيف، زينب بنت سليمان العبّاسية لم يؤثر فيها جرح أو تعديل، وقد ذكر لها الخطيب البغدادي وابن عساكر في "تاريخيهما" أحاديث منكرة، ومنها هذا الحديث، وتعقَّب الذهبيُّ الحاكمَ في تصحيح إسناده فقال: بل منكر. وعاصم بن علي مختلف فيه، وهو وسطٌ، وقد ضعفه ابن معين والنسائي.» [ترقيم الرساله 6420] [ترقيم الشركة 6346] [ترقيم العلميه 6287]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) منكر وإسناده ضعيف، زينب بنت سليمان العبّاسية لم يؤثر فيها جرح أو تعديل، وقد ذكر لها الخطيب البغدادي وابن عساكر في "تاريخيهما" أحاديث منكرة، ومنها هذا الحديث، وتعقَّب الذهبيُّ الحاكمَ في تصحيح إسناده فقال: بل منكر. وعاصم بن علي مختلف فيه، وهو وسطٌ، وقد ضعفه ابن معين والنسائي.
درجۂ حدیث: یہ روایت "منکر" ہے اور اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راویہ زینب بنت سلیمان العباسیہ کی توثیق یا جرح منقول نہیں، اور خطیب و ابن عساکر نے ان کی چند منکر احادیث ذکر کی ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے۔ امام ذہبی نے اس سند کو صحیح قرار دینے پر امام حاکم کا تعاقب کیا اور اسے منکر کہا۔ عاصم بن علی بھی اختلافی راوی ہیں (درمیانے درجے کے)، جنہیں ابن معین اور نسائی نے ضعیف قرار دیا ہے۔
وأخرجه الخطيب في "تاريخ بغداد" 16/ 621 - 622، ومن طريقه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 69/ 170 - 171 من طريق أحمد بن الخليل بن مالك، عن زينب بنت سليمان، بهذا الإسناد. وأحمد بن الخليل ضعفه الدارقطني، وقال كما في "تاريخ بغداد" 5/ 218: لا يحتج به.
حوالہ / مصدر: خطیب نے "تاریخ بغداد" (16/ 621) میں اور ان کے طریق سے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (69/ 170) میں احمد بن الخلیل بن مالک کے واسطے سے زینب بنت سلیمان سے اسی سند کے ساتھ اسے نقل کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: احمد بن الخلیل کو امام دارقطنی نے ضعیف کہا ہے اور بقول خطیب (5/ 218) وہ قابلِ احتجاج نہیں ہیں۔
وانظر ما سلف برقم (6413).
نوٹ / توضیح: اس سلسلے میں گزشتہ رقم 6413 ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6420 سے ماخوذ ہے۔