المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
دُعَاءُ النَّبِيِّ بَعْدَ الْوِتْرِ لِنَفْسِهِ باب: وتر کے بعد نبی کریم ﷺ کی اپنی ذات کے لیے دعا
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نُعيم الفضل بن دُكَين، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، حدثني المِنهال بن عمرو قال: حدثني علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه قال: أمَرَنِي العباس قال: بِتْ بَالِ رسول الله ﷺ ليلةً، فانطلقتُ إلى المسجد فصلَّى رسول الله ﷺ العشاءَ الآخرةَ حتى لم يَبْقَ في المسجد أحدٌ غيرُه، قال: ثم مرَّ بي فقال: "مَن هذا؟ " فقلت: عبدُ الله، قال: "فمَه؟ " قلت: أمَرَني أبي أن أبيِتَ بكم الليلةَ، قال: "فالْحَقْ"، فلما دخل قال: "افرُشُوا لعبد الله" قال: فأُتِيتُ بوِسادةٍ من مُسُوح، قال: وتقدَّم إليَّ العبّاس أن لا تنامنَّ حتى تَحفَظَ صلاتَه، قال: فقَدِمَ رسولُ الله ﷺ فنام حتى سمعتُ غَطِيطَه، قال: ثم استوى على فراشه فرفع رأسَه إلى السماء فقال: "سبحانَ الملِكِ القُدُّوس" ثلاثَ مرات، ثم تلا هذه الآيةَ من آخر سورة آل عمران حتى ختمها ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [آل عمران: 190]، ثم قام فبال، ثم استَنَّ بسِواكه ثم توضَّأ، ثم دخل مُصلَّاهُ فصلَّى ركعتين ليستا بقصيرتين ولا طويلتين، قال: فصلَّى ثم أوتَرَ، فلما قَضَى صلاتَه سمعتُه يقول: "اللهمَّ اجعَلْ في بصري نورًا، واجعل في سمعي نورًا، واجعلْ في لساني نورًا، واجعل في قلبي نورًا، واجعل عن يميني نورًا، واجعلْ عن شِمالي نورًا، واجعلْ أَمامي نورًا، واجعلْ من خلفي نورًا، واجعلْ من فوقي نورًا، واجعلْ من أسفلَ مني نورًا، واجعلْ لي يوم أَلْقاكَ نورًا، وأَعظِمْ لي نورًا" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6286 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ) نے حکم دیا کہ ایک رات رسول اللہ ﷺ کے پاس گزارو، پس میں مسجد گیا، رسول اللہ ﷺ نے عشاء کی نماز پڑھی یہاں تک کہ مسجد میں آپ ﷺ کے سوا کوئی باقی نہ رہا، پھر آپ ﷺ میرے پاس سے گزرے تو پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: عبداللہ، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا بات ہے؟“ میں نے عرض کیا: میرے والد نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں آج کی رات آپ کے پاس گزاروں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میرے ساتھ چلو“، جب آپ ﷺ گھر میں داخل ہوئے تو فرمایا: ”عبداللہ کے لیے بستر بچھا دو“، چنانچہ میرے لیے بالوں سے بنا ایک تکیہ لایا گیا، اور عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے تاکید کی تھی کہ تم نے سونا نہیں یہاں تک کہ آپ ﷺ کی نماز (کا طریقہ) یاد کر لو، پس رسول اللہ ﷺ لیٹ گئے اور سو گئے یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹوں کی آواز سنی، پھر آپ ﷺ اپنے بستر پر سیدھے ہوئے اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر تین بار فرمایا: «سبحان الملك القدوس» ”پاک ہے وہ بادشاہ جو نہایت مقدس ہے“، پھر آپ ﷺ نے سورہ آل عمران کی آخری آیات ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ [سورة آل عمران: 190] سے لے کر سورت کے اختتام تک تلاوت فرمائی، پھر آپ ﷺ اٹھے اور قضائے حاجت کی، پھر مسواک کی اور وضو فرمایا، پھر اپنی جائے نماز پر تشریف لائے اور دو رکعتیں پڑھیں جو نہ بہت مختصر تھیں اور نہ بہت طویل، پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی اور وتر ادا کیے، جب آپ ﷺ اپنی نماز مکمل کر چکے تو میں نے آپ ﷺ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي بَصَرِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي سَمْعِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي لِسَانِي نُورًا، وَاجْعَلْ فِي قَلْبِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ يَمِينِي نُورًا، وَاجْعَلْ عَنْ شِمَالِي نُورًا، وَاجْعَلْ أَمَامِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ خَلْفِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ فَوْقِي نُورًا، وَاجْعَلْ مِنْ أَسْفَلَ مِنِّي نُورًا، وَاجْعَلْ لِي يَوْمَ أَلْقَاكَ نُورًا، وَأَعْظِمْ لِي نُورًا» ”اے اللہ! میری بصارت میں نور پیدا کر دے، میری سماعت میں نور پیدا کر دے، میری زبان میں نور پیدا کر دے، میرے دل میں نور پیدا کر دے، میرے دائیں جانب نور پیدا کر دے، میرے بائیں جانب نور پیدا کر دے، میرے سامنے نور پیدا کر دے، میرے پیچھے نور پیدا کر دے، میرے اوپر نور پیدا کر دے، میرے نیچے نور پیدا کر دے، اور جس دن میں تجھ سے ملوں اس دن میرے لیے نور بنا دے اور میرے نور کو عظیم کر دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے؛ البتہ یہ سند یونس بن ابی اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت (تائید) بھی موجود ہے۔
وأخرجه الطبراني (10648) عن علي بن عبد العزيز البغوي، بهذا الإسناد. وقد جاء الطبراني بالرواية مفسَّرة، فذكر نوم النبي ﷺ وقيامه للصلاة ثلاث مرات، في كل مرة يتوضأ ويصلي ركعتين، ثم أوتر. فتمت له ست ركعات غير الوتر، ولم يذكر بكم أوتر.
تفصیلِ روایت: طبرانی (10648) نے علی بن عبدالعزیز البغوی کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔ طبرانی کی روایت میں تفصیل ہے کہ نبی ﷺ سوئے اور نماز کے لیے تین بار اٹھے، ہر بار وضو کیا اور دو دو رکعتیں پڑھیں، پھر وتر پڑھے۔ اس طرح وتر کے علاوہ آپ کی چھ رکعتیں مکمل ہوئیں، لیکن یہ ذکر نہیں کہ وتر کتنے پڑھے۔
ورواه شبابة بن سوّار عن يونس بن أبي إسحاق عند أبي يعلى (2545) والطحاوي في "معاني الآثار" 1/ 286 - 287، فذكر صلاته ست ركعات وإيتاره بثلاث فتمَّت له تسع ركعات.
متابعات و شواہد: شبابہ بن سوار نے یونس بن ابی اسحاق سے اسے ابویعلیٰ (2545) اور طحاوی "معانی الآثار" (1/ 286-287) میں روایت کیا، جس میں آپ ﷺ کی چھ رکعتیں اور تین وتر ملا کر کل نو رکعتوں کا ذکر ہے۔
وأخرجه كذلك أحمد 5 / (3541)، ومسلم (763) (191)، وأبو داود (58) و (1353) و (1354)، والنسائي (402) من طريق محمد بن علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، عن جده. وقد روي حديث ابن عبّاس هذا في مبيته عند النبي ﷺ وصلاته معه بالليل من غير وجه، ووقع في عدد صلاته اختلاف، فمنهم من قال: ثلاث عشرة ركعة، ومنهم من قال: إحدى عشرة ركعة، وانظر تحرير ذلك للحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 4/ 91 - 93، وانتهى إلى أنَّ المحقَّق من عدد صلاته في تلك الليلة إحدى عشرة ركعة.
حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے احمد (5/ 3541)، مسلم (763/ 191)، ابوداود (58، 1353، 1354) اور نسائی (402) نے محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس کے طریق سے ان کے والد اور دادا سے روایت کیا ہے۔ ابن عباس کی نبی ﷺ کے پاس رات گزارنے کی یہ حدیث کئی طرق سے مروی ہے اور رکعتوں کی تعداد میں اختلاف ہے۔ بعض نے تیرہ اور بعض نے گیارہ رکعتیں کہیں۔ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (4/ 91-93) میں اس کی تحقیق کر کے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس رات آپ ﷺ کی نماز کی صحیح تعداد گیارہ رکعتیں تھیں۔