حدثنا (3) عبد الرحمن بن عبد العزيز، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد ابن عمرو بن حَزْم قال: جلسنا عندَه، فذُكِرَ أولُ مولود من الأنصار بعد قُدوم رسول الله ﷺ المدينة، فقال: النُّعمان بن بَشير وُلِدَ بعد أن قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينة لسنةٍ وأيامٍ (4) أو أقلَّ من سنة، قال: فذكروا عبد الله بن أبي طَلْحة، فقال: لقد (5) كانت أمُّ سُلَيم به حاملًا [يوم حُنَين]، فوَلَدَت بعد أن قَدِمَت المدينة.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں کہ ہم ان کے پاس بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد انصار کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے کا ذکر ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ وہ نعمان بن بشیر ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی مدینہ آمد کے ایک سال اور چند دن بعد یا ایک سال سے کچھ کم عرصے میں پیدا ہوئے تھے، پھر لوگوں نے عبداللہ بن ابی طلحہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوہ حنین کے دن ان سے حاملہ تھیں اور ان کی پیدائش مدینہ واپسی کے بعد ہوئی۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا سليمان بن أحمد قال: سمعتُ أبا مُسهرٍ يقول: قُتِل النعمان بن بَشِير فيما بين سَلَميةَ وحِمصَ؛ قُتِل غيلةً.
حافظ طلحہ بابر
ابو مسہر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو مقامِ سلمیہ اور حمص کے درمیان دھوکے سے قتل کر دیا گیا۔
فأخبرني قاضي القضاة محمد بن صالح الهاشمي [حدثنا أبو أحمد محمد بن أحمد الجَرِيري، حدثنا أبو جعفر أحمد بن الحارث الخرّاز] (1) حدثنا علي بن محمد المَدائني، حدثنا يعقوب بن داود الثقفي ومَسلَمة بن مُحارِب وغيرهما قالوا: لما قُتِل الضحاكُ بن قيس بمَرْج راهطٍ، وكان للنِّصف من ذي الحِجّة سنة أربع وستين في خلافة مروان بن الحَكم، فأراد النعمانُ بن بَشير أن يَهرُب من حِمصَ وكان عاملًا عليها، فخالَفَ ودعا لابن الزُّبير، فطلبه أهلُ حمص فقتلوه واحتزُّوا رأسه. وقد صحَّت الروايات في الصحيحين بسماع النعمان بن بَشير من رسول الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر
علی بن محمد مدائنی اور دیگر بیان کرتے ہیں کہ جب مروان بن حکم کی خلافت میں ذوالحجہ سن 64 ہجری کے وسط میں مقامِ مرج راہط پر ضحاک بن قیس قتل ہوئے، تو نعمان بن بشیر حمص سے بھاگنا چاہتے تھے جہاں وہ گورنر تھے، انہوں نے (بنو امیہ کی) مخالفت کی تھی اور ابن زبیر کی بیعت کی دعوت دی تھی، چنانچہ اہل حمص نے انہیں تلاش کر کے قتل کر دیا اور ان کا سر کاٹ لیا۔
نعمان بن بشیر کا رسول اللہ ﷺ سے سماع صحیحین کی روایات سے ثابت ہے۔
نعمان بن بشیر کا رسول اللہ ﷺ سے سماع صحیحین کی روایات سے ثابت ہے۔