المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ قَتْلِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ باب: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذکر
حدیث نمبر: 6390
حدثنا (3) عبد الرحمن بن عبد العزيز، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد ابن عمرو بن حَزْم قال: جلسنا عندَه، فذُكِرَ أولُ مولود من الأنصار بعد قُدوم رسول الله ﷺ المدينة، فقال: النُّعمان بن بَشير وُلِدَ بعد أن قَدِمَ رسولُ الله ﷺ المدينة لسنةٍ وأيامٍ (4) أو أقلَّ من سنة، قال: فذكروا عبد الله بن أبي طَلْحة، فقال: لقد (5) كانت أمُّ سُلَيم به حاملًا [يوم حُنَين]، فوَلَدَت بعد أن قَدِمَت المدينة.
حافظ طلحہ بابر
عبداللہ بن ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں کہ ہم ان کے پاس بیٹھے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی مدینہ تشریف آوری کے بعد انصار کے ہاں پیدا ہونے والے پہلے بچے کا ذکر ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ وہ نعمان بن بشیر ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی مدینہ آمد کے ایک سال اور چند دن بعد یا ایک سال سے کچھ کم عرصے میں پیدا ہوئے تھے، پھر لوگوں نے عبداللہ بن ابی طلحہ کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوہ حنین کے دن ان سے حاملہ تھیں اور ان کی پیدائش مدینہ واپسی کے بعد ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) يحتمل أن يكون الراوي عن عبد الرحمن بن عبد العزيز هذا الخبر هو مصعبًا الزبيري، وقد رواه عن عبد الرحمن أيضًا محمد بن عمر الواقدي كما في "طبقات ابن سعد" 5/ 364.
فنی نکتہ / علّت: یہ احتمال ہے کہ عبد الرحمن بن عبد العزیز سے یہ خبر روایت کرنے والے "مصعب الزبیری" ہوں، جبکہ ان سے اسے محمد بن عمر الواقدی نے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ "طبقات ابن سعد" 5/ 364 میں موجود ہے۔
وعبد الرحمن بن عبد العزيز هذا هو ابن عبد الله بن عثمان بن حُنيف الأنصاري.
نوٹ / توضیح: یہاں عبد الرحمن بن عبد العزیز سے مراد "عبد الرحمن بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عثمان بن حنیف الانصاری" ہیں۔
(4) في (ز) و (ب) لسنة أو أقام، وفي (م) و (ص): لسنة أو أيام، والكل خطأ، وما أثبتنا هو الصواب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "لسنة أو أقام" کے الفاظ ہیں، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں "لسنة أو أيام" درج ہے، لیکن یہ سب غلط ہیں۔
اہم نکتہ: ہم نے متن میں جو الفاظ ثابت کیے ہیں وہی درست ہیں۔
(5) تحرَّف في نسخنا إلى: لو، والتصويب من "الطبقات"، وكذا استدركنا منه ما بين المعقوفين.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر "لو" لکھا گیا ہے، جبکہ اس کی تصحیح "الطبقات" (ابن سعد) سے کی گئی ہے، اسی طرح بریکٹ (معقوفین) کے درمیان والی عبارت بھی وہیں سے لی گئی ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ احتمال ہے کہ عبد الرحمن بن عبد العزیز سے یہ خبر روایت کرنے والے "مصعب الزبیری" ہوں، جبکہ ان سے اسے محمد بن عمر الواقدی نے بھی روایت کیا ہے جیسا کہ "طبقات ابن سعد" 5/ 364 میں موجود ہے۔
وعبد الرحمن بن عبد العزيز هذا هو ابن عبد الله بن عثمان بن حُنيف الأنصاري.
نوٹ / توضیح: یہاں عبد الرحمن بن عبد العزیز سے مراد "عبد الرحمن بن عبد العزیز بن عبد اللہ بن عثمان بن حنیف الانصاری" ہیں۔
(4) في (ز) و (ب) لسنة أو أقام، وفي (م) و (ص): لسنة أو أيام، والكل خطأ، وما أثبتنا هو الصواب.
فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز) اور (ب) میں "لسنة أو أقام" کے الفاظ ہیں، جبکہ نسخہ (م) اور (ص) میں "لسنة أو أيام" درج ہے، لیکن یہ سب غلط ہیں۔
اہم نکتہ: ہم نے متن میں جو الفاظ ثابت کیے ہیں وہی درست ہیں۔
(5) تحرَّف في نسخنا إلى: لو، والتصويب من "الطبقات"، وكذا استدركنا منه ما بين المعقوفين.
فنی نکتہ / علّت: ہمارے نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر "لو" لکھا گیا ہے، جبکہ اس کی تصحیح "الطبقات" (ابن سعد) سے کی گئی ہے، اسی طرح بریکٹ (معقوفین) کے درمیان والی عبارت بھی وہیں سے لی گئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6390 سے ماخوذ ہے۔