المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ قَتْلِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرِ باب: سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے قتل کا ذکر
حدیث نمبر: 6392
فأخبرني قاضي القضاة محمد بن صالح الهاشمي [حدثنا أبو أحمد محمد بن أحمد الجَرِيري، حدثنا أبو جعفر أحمد بن الحارث الخرّاز] (1) حدثنا علي بن محمد المَدائني، حدثنا يعقوب بن داود الثقفي ومَسلَمة بن مُحارِب وغيرهما قالوا: لما قُتِل الضحاكُ بن قيس بمَرْج راهطٍ، وكان للنِّصف من ذي الحِجّة سنة أربع وستين في خلافة مروان بن الحَكم، فأراد النعمانُ بن بَشير أن يَهرُب من حِمصَ وكان عاملًا عليها، فخالَفَ ودعا لابن الزُّبير، فطلبه أهلُ حمص فقتلوه واحتزُّوا رأسه. وقد صحَّت الروايات في الصحيحين بسماع النعمان بن بَشير من رسول الله ﷺ.
حافظ طلحہ بابر
علی بن محمد مدائنی اور دیگر بیان کرتے ہیں کہ جب مروان بن حکم کی خلافت میں ذوالحجہ سن 64 ہجری کے وسط میں مقامِ مرج راہط پر ضحاک بن قیس قتل ہوئے، تو نعمان بن بشیر حمص سے بھاگنا چاہتے تھے جہاں وہ گورنر تھے، انہوں نے (بنو امیہ کی) مخالفت کی تھی اور ابن زبیر کی بیعت کی دعوت دی تھی، چنانچہ اہل حمص نے انہیں تلاش کر کے قتل کر دیا اور ان کا سر کاٹ لیا۔
نعمان بن بشیر کا رسول اللہ ﷺ سے سماع صحیحین کی روایات سے ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين سقط هنا من نسخنا الخطية، واستدركناه من الروايتين الآتيتين برقم (6454) و (6500)، فهذا الإسناد سلسلة معروفة، وقد ذكر الخطيب البغدادي في ترجمة محمد بن أحمد الجريري من "تاريخ بغداد" 2/ 252 أنَّ الجريري هذا حدث عن أحمد بن الحارث الخرّاز بكتب أبي الحسن علي بن محمد المدائني.
فنی نکتہ / علّت: بریکٹ کے درمیان والا حصہ ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط تھا، جسے ہم نے آنے والی روایات نمبر (6454) اور (6500) سے حاصل کیا ہے۔
اہم نکتہ: یہ اسناد ایک معروف سلسلہ ہے، اور خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" 2/ 252 میں محمد بن احمد الجریری کے حالات میں ذکر کیا ہے کہ الجریری نے احمد بن الحارث الخراز سے ابو الحسن علی بن محمد المدائنی کی کتابیں روایت کی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: بریکٹ کے درمیان والا حصہ ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط تھا، جسے ہم نے آنے والی روایات نمبر (6454) اور (6500) سے حاصل کیا ہے۔
اہم نکتہ: یہ اسناد ایک معروف سلسلہ ہے، اور خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" 2/ 252 میں محمد بن احمد الجریری کے حالات میں ذکر کیا ہے کہ الجریری نے احمد بن الحارث الخراز سے ابو الحسن علی بن محمد المدائنی کی کتابیں روایت کی ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6392 سے ماخوذ ہے۔