حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: أسماءُ بن حارثةَ بن سَعيد بن عبد الله بن غِيَاث ابن سَعْد بن عمرو بن عامر بن ثَعلَبة بن [مالك بن] أَفْصَى، وإلى بني حارثةَ … (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ اسماء بن حارثہ بن سعید بن عبداللہ بن غیاث کا نسب بنو حارثہ بن مالک بن افصی تک پہنچتا ہے۔
حدثني (2) سعيد بن عطاء بن أبي مروان، عن أبيه، عن جدِّه، عن أسماء ابن حارثة الأسلمي قال: دخلتُ على النبي ﷺ يومَ عاشوراءَ فقال: "أصُمتَ اليومَ يا أسماءُ؟ " قلت: لا، قال: "فصُمْ" قلت: قد تغدَّيتُ يا رسول الله، قال: "صُمْ ما بقيَ ومُرْ قومك بصومِه" قال أسماءُ: فأخذتُ نعليَّ بيدي فأدخلتُ رِجليَّ (3) حتى وَرَدتُ على قومي، فقلت: إنَّ نبيَّ الله ﷺ يأمركم أن تصوموا، فقالوا: قد تَغدَّينا، فقلت: إنَّه قد أمركم أن تصوموا بقيَّةَ يومِكم (4).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسماء بن حارثہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں یومِ عاشورہ کے دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”اے اسماء! کیا تم نے آج روزہ رکھا ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پھر روزہ رکھ لو،“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں تو دوپہر کا کھانا کھا چکا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو دن باقی رہ گیا ہے اس کا روزہ رکھ لو اور اپنی قوم کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دو،“ اسماء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے جوتے ہاتھ میں لیے اور تیزی سے روانہ ہوا یہاں تک کہ اپنی قوم کے پاس پہنچا اور کہا کہ اللہ کے نبی ﷺ تمہیں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں، انہوں نے کہا: ہم تو کھانا کھا چکے ہیں، میں نے کہا کہ آپ ﷺ نے تمہیں بقیہ دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
أخبرني محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن إسحاق، أخبرني أبو يونس، حدثني إبراهيم بن المنذِرِ الحِزَامي قال: تُوفِّيَ أسماءُ بن حارثة سنة ستٍّ وستين وهو ابن ثمانينَ سنة.
حافظ طلحہ بابر
ابراہیم بن منذر حزامی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا اسماء بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی وفات سن 66 ہجری میں ہوئی جبکہ اس وقت ان کی عمر 80 برس تھی۔