المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ أَسْمَاءَ بْنِ حَارِثَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدہ اسماء بن حارثہ انصاری رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 6378
حدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين ابن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر قال: أسماءُ بن حارثةَ بن سَعيد بن عبد الله بن غِيَاث ابن سَعْد بن عمرو بن عامر بن ثَعلَبة بن [مالك بن] أَفْصَى، وإلى بني حارثةَ … (1).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ اسماء بن حارثہ بن سعید بن عبداللہ بن غیاث کا نسب بنو حارثہ بن مالک بن افصی تک پہنچتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) قال ابن سعد في "الطبقات" 5/ 226 بعد أن ساق نسب أسماء هذا: وإلى بني حارثة البيتُ من بني مالك بن أفصى. يريد أنهم ذوو عَددٍ وكثرة وشرف.
حوالہ / مصدر: ابن سعد نے "الطبقات" 5/ 226 میں اسماء کا نسب ذکر کرنے کے بعد کہا ہے: "بنو حارثہ کا گھرانہ بنو مالک بن افصیٰ میں بلند مقام رکھتا ہے"۔
نوٹ / توضیح: ان کی مراد یہ ہے کہ وہ تعداد کی کثرت اور شرف (عزت و وجاہت) والے لوگ ہیں۔
حوالہ / مصدر: ابن سعد نے "الطبقات" 5/ 226 میں اسماء کا نسب ذکر کرنے کے بعد کہا ہے: "بنو حارثہ کا گھرانہ بنو مالک بن افصیٰ میں بلند مقام رکھتا ہے"۔
نوٹ / توضیح: ان کی مراد یہ ہے کہ وہ تعداد کی کثرت اور شرف (عزت و وجاہت) والے لوگ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6378 سے ماخوذ ہے۔