فحدثنا أبو سعيد أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حَدَّثَنَا موسى بن زكريا التُّستَري، حَدَّثَنَا خَليفة بن خيَّاط: قال أبو محذورة أَوْس بن مِعيَرٍ بن لَوْذان بن رَبيعة، قال شَبَابٌ (3): وقال أبو اليَقْظان: أَوْس بن مِعيَر قُتل يومَ بدر كافرًا، واسم أبي محذورة سَلْمان بن سَمُرة، قال شباب: ويقال: اسمه سَمُرة بن مِعيَر.
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط کہتے ہیں کہ ابو محذورہ کا نام اوس بن معیر بن لوذان بن ربیعہ ہے، شباب کہتے ہیں کہ ابو یقظان کے مطابق اوس بن معیر تو جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں قتل کر دیا گیا تھا اور ابو محذورہ کا دراصل نام سلمان بن سمرہ ہے، شباب کہتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق ان کا نام سمرہ بن معیر ہے۔
وحدثنا أبو عبد الله الأصبهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن الجَهْم، حَدَّثَنَا الحسين بن الفَرَج، حَدَّثَنَا محمد بن عمر قال: أبو محذورة اسمه أَوْس بن مِعيَر بن لَوْذان بن رَبيعة بن عُرَيج (1) بن سعد بن جُمَحَ، وكان له أخ من أبيه وأمه يقال له: أُنيس، قُتل يومَ بدر كافرًا، وتُوفي أبو محذورة بمكة - حرسها الله تعالى سنة تسع وخمسين، ولم يهاجِرْ ولم يزلْ مقيمًا بمكة (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عمر بیان کرتے ہیں کہ ابو محذورہ کا نام اوس بن معیر بن لوذان بن ربیعہ بن عریج بن سعد بن جمح تھا، ان کے ایک حقیقی بھائی جن کا نام انیس تھا وہ جنگ بدر کے دن کفر کی حالت میں قتل ہوئے، ابو محذورہ کی وفات مکہ مکرمہ —اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے— میں سن 59 ہجری میں ہوئی، انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی بلکہ وہ ہمیشہ مکہ میں ہی مقیم رہے۔
أخبرني محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا محمد بن إسحاق الثَّقفي، حَدَّثَنَا محمد بن رافع القُشَيري قال: سألت أبا سعيد بن أبي مَحذُورة المؤذِّنَ في المسجد الحرام عن اسم جدِّه فقال: مِعيَر بن مُحَيرِيز.
حافظ طلحہ بابر
محمد بن رافع قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں نے مسجد حرام کے مؤذن ابوسعید بن ابومحذورہ سے ان کے دادا کا نام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان کا نام معیر بن محیریز ہے۔