حدیث نمبر: 6306
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حَدَّثَنَا أبو حُذَيفة، حَدَّثَنَا أيوب بن ثابت، عن صَفيَّة بنت تَجْراةَ: أنَّ أبا محذورة كانت له قُصَّةٌ في مُقدَّم رأسه، إذا قَعَدَ أرسلَها فبَلَغ الأرض، فقالوا له: ألا تَحلِقُها؟ فقال: إِنَّ رسول الله ﷺ مَسَحَ عليها بيده، فلم أكن لأَحلِقَها حتَّى أموت. فلم يَحلِقْها حتَّى مات (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 6181 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

صفیہ بنت تجراة سے روایت ہے کہ سیدنا ابو محذورہ رضی اللہ عنہ کے سر کے اگلے حصے میں بالوں کی ایک لمبی لٹ تھی، جب وہ بیٹھتے تو اسے لٹکا دیتے اور وہ زمین تک پہنچ جاتی تھی، لوگوں نے ان سے کہا: ”کیا آپ اسے منڈواتے نہیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”بے شک رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا دستِ مبارک پھیرا ہے، لہذا میں مرتے دم تک اسے نہیں منڈواؤں گا۔“ پس انہوں نے اپنی وفات تک اسے نہیں کٹوایا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6306
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ليّن من أجل أيوب بن ثابت
تخریج حدیث «إسناده ليّن من أجل أيوب بن ثابت، فقد قال فيه أبو حاتم الرازي: لا يُحمد حديثه، وليَّنه ابن حجر في "التقريب"، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصفية لم يرو عنها غير أيوب هذا، وذكرها ابن حبان في "الثقات" 4/ 386 وسماها صفية بنت بَحْرة، وانظر التعليق القيّم للدكتور بشار عواد ...» [ترقيم الرساله 6306] [ترقيم الشركة 6239] [ترقيم العلميه 6181]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ليّن من أجل أيوب بن ثابت، فقد قال فيه أبو حاتم الرازي: لا يُحمد حديثه، وليَّنه ابن حجر في "التقريب"، وذكره ابن حبان في "الثقات"، وصفية لم يرو عنها غير أيوب هذا، وذكرها ابن حبان في "الثقات" 4/ 386 وسماها صفية بنت بَحْرة، وانظر التعليق القيّم للدكتور بشار عواد في تحقيقه لكتاب "تهذيب الكمال" 34/ 257 في ضبط هذا الاسم.
درجۂ حدیث: ایوب بن ثابت کی وجہ سے یہ سند 'لین' (کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو حاتم نے ان کی تضعیف کی ہے، جبکہ صفیہ سے صرف ایوب ہی روایت کرتے ہیں۔ ابن حبان نے انہیں صفیہ بنت بَحْرہ کے نام سے 'الثقات' میں ذکر کیا ہے۔ نام کے ضبط کے لیے ڈاکٹر بشار عواد کی 'تہذیب الکمال' کی تحقیق ملاحظہ کریں۔
علي بن عبد العزيز: هو أبو الحسن البغوي، وأبو حذيفة هو موسى بن مسعود النهدي. وأخرجه الطبراني (6746) - ومن طريقه المزي في "تهذيب الكمال" 34/ 257 - 258 - عن علي بن عبد العزيز، بهذا الإسناد.
ناموں کی تحقیق: علی بن عبد العزیز سے مراد ابو الحسن البغوی اور ابو حذیفہ سے مراد موسیٰ بن مسعود النہدی ہیں۔
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (6746) اور مزی نے 'تہذیب الکمال' میں اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 4/ 177 - 178 - عن موسى بن مسعود أبي حذيفة، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (4/ 177) میں موسیٰ بن مسعود کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج أحمد 24 / (15376)، وأبو داود (501) من طريق ابن جريج قال: أخبرني عثمان بن السائب، عن أبيه السائب مولى أبي محذورة، عن أم عبد الملك بن أبي محذورة، عن أبي محذورة في قصة تعليم النَّبِيّ ﷺ له الأذانَ، وفي آخره قال: وكان أبو محذورة لا يجزُّ ناصيته ولا يفرقها لأنَّ رسول الله ﷺ مسح عليها. وعثمان بن السائب مجهول تفرَّد بالرواية عنه ابن جريج، وهو قد تفرَّد بدوره بالرواية عن أبيه وأم عبد الملك، فالإسناد ضعيف، لكنه يصلح للاعتبار.
درجۂ حدیث: عثمان بن السائب کے 'مجہول' ہونے کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر 'اعتبار' (شواہد) کے لیے موزوں ہے۔
تفصیلِ روایت: اذان سکھانے کے قصے کے آخر میں ہے کہ ابو محذورہ اپنی پیشانی کے بال (ناصیہ) نہیں کاٹتے تھے اور نہ ان میں مانگ نکالتے تھے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر اپنا دستِ مبارک پھیرا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6306 سے ماخوذ ہے۔