حدیث نمبر: 6302
فحدّثَني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا إبراهيم بن إسحاق الحَرْبي، حَدَّثَنَا مصعب بن عبد الله الزُّبيري قال: أبو مَحذُورةَ أَوْس بن مِعْيَر بن وهب بن دُعموُص بن سَعْد (1) بن جُمَحَ، وأمُّه خُزَاعيّة. قال إبراهيم الحَرْبي: هكذا قال مصعب الزُّبيري، وقد قيل: اسمه سَمُرة بن مِعَير (2).
حافظ طلحہ بابر

مصعب بن عبداللہ زبیری بیان کرتے ہیں کہ ابو محذورہ کا نام اوس بن معیر بن وہب بن دعموص بن سعد بن جمح ہے اور ان کی والدہ قبیلہ خزاعہ سے تھیں، ابراہیم حربی کہتے ہیں کہ مصعب زبیری نے اسی طرح بیان کیا ہے جبکہ ایک قول یہ بھی ہے کہ ان کا نام سمرہ بن معیر تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 6302
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 6302] [ترقيم الشركة 6235]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في نسخنا الخطية سعيد، وهو خطأ، والتصويب من "نسب قريش" لمصعب ص 399.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں 'سعید' لکھا ہے جو غلط ہے، درست نام مصعب زبیری کی "نسب قریش" کے مطابق (سعد) ہے۔
(2) قال ابن حزم في "جمهرة أنساب العرب" ص 163: يظن أهل الحديث أنَّ اسم أبي محذورة سَمُرة، وليس كذلك، وإنما سمرة أخٌ لأبي محذورة.
نوٹ / توضیح: ابن حزم "جمہرہ انساب العرب" میں فرماتے ہیں کہ محدثین کا یہ گمان کہ ابو محذورہ کا نام 'سمرہ' ہے، درست نہیں؛ سمرہ تو ابو محذورہ کے بھائی کا نام تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 6302 سے ماخوذ ہے۔